Loading
خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی کے منصوبے میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف معمول کے مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے بلکہ انہیں گرفتار کرنے کے بعد جیل بھیجنے کے بجائے براہ راست ڈیپورٹیشن سینٹر منتقل کیا جائے گا اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں افغانستان واپس بھیجد دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق واپسی کے عمل میں سب سے پہلے شہروں، گلی محلوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں مقیم افغان باشندوں کو مرحلہ وار منتقل کیا جائے گا جبکہ اس دوران انسانی وقار اور قانون کی مکمل پاسداری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی پولیس افسر یا اہلکار نے افغان باشندوں کے ساتھ بدتمیزی، ناروا سلوک، رشوت ستانی، رقم وصول کرنے یا کسی بھی قسم کا مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ واپسی کا عمل منظم، شفاف اور قانون کے مطابق مکمل کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدسلوکی کی شکایت سامنے نہ آئے، اس حوالے سے پشاور کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا پولیس کو افغان مہاجرین کی واپسی کا پلان دے دیا جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر افغان مہاجرین کی معمول کے مطابق واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل