Loading
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے روس کو یوکرین جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کے حوالے سے سخت پیغام دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ روسی میڈیا میں ایک بار پھر یوکرین کے حملوں کے جواب میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں سامنے آ رہی تھیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یوکرینی صدر نے انکشاف کیا کہ چین نے پہلی مرتبہ واضح انداز میں روس کو یہ پیغام دیا کہ یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا تصور بھی قابل قبول نہیں۔
اگرچہ چین نے یوکرینی صدر کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم چین گزشتہ کئی برسوں سے یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ کسی بھی جنگ میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال یا اس کی دھمکی ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ آزوف اور بحیرہ اسود میں روس کے بحری بیڑے کے خلاف نئی کارروائی کرتے ہوئے ایک ہی رات میں 18 روسی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔
یوکرینی جنرل اسٹاف کا کہنا تھا کہ حملوں میں 13 آئل ٹینکر، تین کارگو جہاز، ایک فیری اور ایک معاون جہاز شامل تھے۔ جو روسی افواج کو ایندھن، اسلحہ اور دیگر فوجی سامان پہنچانے میں استعمال ہو رہے تھے۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ 4 روز کے دوران بحیرہ آزوف اور بحیرہ اسود میں روس کے 36 سے زائد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جن میں بڑی تعداد ان ٹینکروں کی ہے جنہیں روس پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے "شیڈو فلیٹ" کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحری حملوں کے ساتھ ساتھ روس کے اندر توانائی کے اہم مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کراسنوڈار کے علاقے میں واقع ایلسکی آئل ریفائنری، تاگانروگ کے کورگان نیفٹ پروڈکٹ آئل ٹرمینل، آزوف نیفٹ پروڈکٹ آئل ڈپو اور لینن گراڈ کے نوواٹیک-است لوگا پروسیسنگ کمپلیکس پر ڈرون حملوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔
دوسری جانب روس نے یوکرین کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی اور نہ ہی حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری کی ہیں۔
اسی دوران جمہوریہ چیک کے صدر اور سابق جنرل پیٹر پاویل نے خبردار کیا ہے کہ روس ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد نئی فوجی بھرتی کا اعلان کر سکتا ہے۔ ان کے بقول انتخابات سے پہلے ایسا فیصلہ سیاسی طور پر مشکل ہوگا تاہم اس کے بعد جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
یوکرین کا مؤقف ہے کہ اس کے مسلسل ڈرون حملوں سے روس کے ایندھن کی ترسیل اور فوجی لاجسٹکس متاثر ہو رہی ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں روس کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور پٹرول پمپوں پر طویل قطاروں کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔
تاہم جنگ سے متعلق دونوں ممالک کے کئی عسکری دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی جس کے باعث میدانِ جنگ کی حقیقی صورت حال کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل