Loading
ہر سال 11 جولائی کو دنیا بھر میں عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دن اکثر صرف آبادی کے اعداد و شمار کے تذکروں تک محدود رہ جاتا ہے، حالانکہ آبادی کا معاملہ محض افراد کی گنتی نہیں بلکہ کسی بھی ریاست کے معاشی مستقبل، سماجی استحکام، قومی سلامتی اور انسانی ترقی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی آبادی کو معیاری تعلیم، بہتر صحت، جدید مہارتوں اور باوقار روزگار کے ذریعے انسانی سرمایہ بنایا، وہ معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی کی منزل تک پہنچ گئے، جب کہ جہاں منصوبہ بندی اور انسانی ترقی کو نظر انداز کیا گیا وہاں غربت، بے روزگاری اور وسائل کی قلت نے مستقل بحران کی شکل اختیار کر لی۔
قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی، جو 2023ء کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق بڑھ کر تقریباً 24 کروڑ 12 لاکھ ہو چکی ہے۔ اصل مسئلہ آبادی میں اضافہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، پانی، توانائی اور شہری سہولیات بھی اسی رفتار سے ترقی کر سکی ہیں؟
بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا، جس کے باعث بنیادی خدمات پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔1951ء سے 2023ء تک ہونے والی مردم شماریوں نے واضح کیا ہے کہ مردم شماری صرف افراد کی گنتی نہیں بلکہ قومی منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ، انتخابی حلقہ بندیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد ہوتی ہے۔
اس لیے آیندہ مردم شماری میں جدید ٹیکنالوجی، شفافیت اور درست اعداد و شمار کو یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ قومی پالیسیاں زمینی حقائق کے مطابق تشکیل دی جا سکیں۔ پاکستان میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب ہجرت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بہتر تعلیم، علاج، روزگار اور کاروبار کی تلاش میں لاکھوں افراد ہر سال بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ اس تیز رفتار شہری آبادی نے پانی، رہائش، ٹرانسپورٹ، صحت، صفائی اور ماحولیات جیسے شعبوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، تاہم کراچی کی صورتحال سب سے نمایاں ہے۔ پاکستان کے معاشی مرکز کی حیثیت سے یہ شہر مسلسل اندرونی نقل مکانی کا مرکز رہا ہے، لیکن اس کے انفرا اسٹرکچر، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ اور بلدیاتی نظام کو اسی رفتار سے ترقی نہیں دی جا سکی۔
نتیجتاً ٹریفک، آلودگی، پانی کی قلت اور کچی آبادیوں میں اضافہ جیسے مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں۔ دوسری جانب دیہی پاکستان بھی کم سنگین مسائل سے دوچار نہیں۔ زراعت لاکھوں خاندانوں کا ذریعہ معاش ہے، مگر پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، زرعی زمینوں کی تقسیم، جدید ٹیکنالوجی کی کمی اور معیاری تعلیم و صحت کی محدود سہولیات نے دیہی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔
یہی عوامل نوجوانوں کو شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کرتے ہیں، جس سے دیہی اور شہری دونوں نظام متاثر ہوتے ہیں۔ آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی اب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چیلنج بن چکے ہیں۔ زیر زمین پانی کی گرتی سطح، شدید گرمی کی لہریں، بے ترتیب بارشیں، تباہ کن سیلاب اور زرعی پیداوار میں کمی خوراک، پانی، صحت اور رہائش کے نئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
2022ء کے تباہ کن سیلاب اور بعد ازاں آنے والی ہیٹ ویوز نے واضح کر دیا کہ اگر آبادی، ماحول اور ترقیاتی منصوبہ بندی کو ایک مربوط قومی حکمت عملی کے تحت نہ دیکھا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آبادی کو صرف تعداد کے بجائے قومی ترقی اور پائیدار مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے۔
اس تناظر میں آبادی اور انسانی سرمائے کے درمیان فرق کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ آبادی صرف افراد کی تعداد کا نام ہے، جب کہ انسانی سرمایہ (Human Capital) ایسے تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنر مند اور باصلاحیت شہریوں پر مشتمل ہوتا ہے جو قومی پیداوار، تحقیق، اختراع اور معاشی ترقی میں موثر کردار ادا کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی توجہ آبادی بڑھانے یا گھٹانے کے بجائے انسانی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری پر مرکوز رکھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ نوجوان آبادی اسی وقت قومی اثاثہ بنے گی جب اسے معیاری تعلیم، جدید مہارت، صحت کی بہتر سہولیات اور مساوی مواقع میسر ہوں گے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ ملک کی بڑی آبادی کام کرنے کی عمر پر مشتمل ہے، جسے آبادیاتی منافع (Demographic Dividend)کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب اگر ریاست درست پالیسیاں اختیار کرے تو نوجوان معیشت، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، تحقیق اور کاروبار میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن یہ موقع ہمیشہ برقرار نہیں رہتا، اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی و ڈیجیٹل مہارتیں، روزگار اور کاروباری مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو یہی آبادی بے روزگاری، برین ڈرین، جرائم، معاشی انحصار اور سماجی بے چینی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ آبادی کو صرف خاندانی منصوبہ بندی کے محدود تناظر میں دیکھنے کے بجائے انسانی ترقی کے جامع تصور سے جوڑا جائے۔ تعلیم پر قومی سرمایہ کاری میں اضافہ، بنیادی صحت کے نظام کی مضبوطی، ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ، ٹیکنیکل، ووکیشنل اور ڈیجیٹل تعلیم کا فروغ، زرعی اصلاحات، پانی کے مؤثر انتظام، چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں کی متوازن ترقی، جدید پبلک ٹرانسپورٹ، سستی رہائش، ڈیجیٹل معیشت اور شفاف مردم شماری کی بنیاد پر وسائل کی منصفانہ تقسیم قومی ترجیحات ہوں۔
اسی کے ساتھ وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان موثر ہم آہنگی، شفاف طرز حکمرانی اور سائنسی بنیادوں پر طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اس کی روشن مثال ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا نے محدود قدرتی وسائل کے باوجود اپنے انسانوں پر سرمایہ کاری کر کے حیرت انگیز معاشی ترقی حاصل کی، جب کہ بہت سے قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک کمزور حکمرانی اور ناقص انسانی ترقی کے باعث مطلوبہ مقام حاصل نہ کر سکے۔
یہ تجربات پاکستان کے لیے بھی واضح پیغام رکھتے ہیں کہ اصل دولت معدنی وسائل نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، صحت مند، باصلاحیت اور بااختیار انسان ہوتے ہیں۔ عالمی یومِ آبادی ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل سوال آبادی کی تعداد نہیں بلکہ اس کا معیار ہے، اگر وفاق، صوبے، مقامی حکومتیں، تعلیمی ادارے، جامعات، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی مل کر تعلیم، صحت، تحقیق، ماحول، جدید شہری منصوبہ بندی اور نوجوانوں کی استعدادِ کار میں سرمایہ کاری کریں تو پاکستان کی یہی بڑھتی ہوئی آبادی بوجھ نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں اس کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل