Saturday, July 11, 2026
 

ضمیر کی آواز

 



تاریخ کی عجیب عادت ہے، وہ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ کون فاتح تھا؟ کس نے سلطنت قائم کی یا کس نے جنگ جیتی۔ وہ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ جب ظلم اپنے عروج پر تھا تو کون حق کے ساتھ تھا اور کون خاموش تھا اور اپنے ضمیر کی آواز کو دنیا کے شور میں گم کر چکا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے تخت وتاج مٹی میں مل جاتے ہیں مگر انسان کے اخلاقی فیصلے تاریخ کے حافظے میں باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے بعض اوقات خاموشی صرف خاموشی نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی گواہی بن جاتی ہے جو انسان کے کردار کا تعین کرتی ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جسے ترقی کا عہد کہا جاتا ہے۔ انسان سمندروں کی تہہ میں بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، بیماریوں کے خلاف حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا رہا ہے، دنیا پہلے سے کہیں زیادہ مربوط، تیزرفتار اور باخبر ہو چکی ہے، مگر ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے، کیا ہم میں پہلے سے زیادہ انسانیت موجود ہے۔ ترقی کا اصل پیمانہ مشینوں کی رفتار نہیں، انسان کے دل کی وسعت ہوتی ہے، اگر سائنسی کامیابیاں بڑھ جائیں مگر رحم، انصاف اور ہمدردی سکڑ جائیں تو تہذیب کی عمارت باہر سے ضرور شاندار دکھائی دے گی مگر اندر سے کھوکھلی ہو جائے گی۔ قوموں کی عظمت صرف ان کی معیشت یا ٹیکنالوجی سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ وہ کمزور اور مظلوم انسان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہیں۔ ظلم کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ خاموش تماشائی بنے رہیں اور سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی بولنے سے گریز کریں۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ظالم کی قوت سے زیادہ خطرناک نیک لوگوں کی بے حسی ہوتی ہے۔ انسان کے سامنے زندگی میں کئی امتحان آتے ہیں مگر سب سے مشکل امتحان ضمیر کا ہوتا ہے۔ جھوٹ اور سچ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک طرف مفاد ہوتا ہے، دوسری طرف اصول۔ ایک راستہ وقتی سکون دیتا ہے اور دوسرا راستہ مستقل ذمے داری کا احساس۔ اکثر لوگ خاموشی کو دانش مندی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ بعض حالات میں خاموش رہنا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہوتا ہے۔ ظلم اس وقت مزید طاقت حاصل کرتا ہے جب اس کے سامنے کوئی سچ بولنے کی ہمت نہ کرسکے۔ اسی لیے تاریخ میں کچھ واقعات وقت گزرنے کے باوجود زندہ رہتے ہیں، کربلا انھی میں سے ایک ہے۔ اس کی عظمت صرف ایک مذہبی واقعے کی حیثیت سے نہیں بلکہ کربلا انسانیت کا درس دیتی ہے۔ وہاں طاقت اور اصول آمنے سامنے تھے، اقتدار اور کردار کا مقابلہ تھا اور دراصل انسانیت کا امتحان تھا۔ اس واقعے نے دنیا کو یہ بتایا کہ حق کی قدر اس کے ماننے والوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی استقامت سے متعین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی کربلا طاقت کی نہیں بلکہ ضمیر کی فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہر زمانے کی اپنی آزمائش ہوتی ہے۔ ہر عہد میں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جن کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جن کے گھروں پر آگ برستی ہے، جن کے خواب ملبے تلے دفن ہو جاتے ہیں اور جن کے بچوں کا مستقبل جنگ کی نذر ہو جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج یہ سب کچھ ہم سے چھپا ہوا نہیں۔ ایک موبائل فون کی اسکرین پوری دنیا کو ہمارے سامنے لے آتی ہے۔ اب خبر تک پہنچنا مشکل نہیں رہا لیکن شاید خبر کو دل تک پہنچانا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ روزانہ بے شمار تصاویر اور ویڈیوز ہماری نظروں سے گزرتی ہیں۔ کہیں ایک باپ اپنے بچے کی لاش اٹھائے کھڑا ہے، کہیں ایک ماں اسپتال کے فرش پر اپنے زخمی بچوں کے ساتھ بیٹھی ہے، کہیں ایک بوڑھا شخص اپنے گھر کے ملبے پہ خاموش کھڑا ہے۔ ہم چند لمحے افسوس کرتے ہیں، تبصرہ کرتے ہیں، شاید ایک تصویر شیئر بھی کر دیتے ہیں، پھر زندگی اپنی معمول کی رفتار سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسانی المیہ بھی اب خبروں کے بہاؤ میں شامل ہو کر چند گھنٹوں کا مہمان رہ گیا ہے۔ طاقتور حلقوں کے پاس ہمیشہ الفاظ کی ایک الگ لغت ہوتی ہے۔ وہاں جنگ کو کارروائی، تباہی کو ضرورت، قبضے کو تحفظ اور بے گناہ جانوں کے ضیاع کو ضمنی نقصان کا نام دیا جاتا ہے۔ الفاظ بدل دینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ تاریخ کی عدالت میں فیصلے سرکاری بیانات سے نہیں بلکہ یہ دیکھ کر کیے جاتے ہیں کہ انسانیت کو کتنا نقصان پہنچا اور خون کے دھبے انصاف مانگتے ہیں۔ ایسے وقت میں ادب، صحافت اور علم کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے۔ ایک شاعر کسی مقتول بچے کو صرف ایک خبر نہیں رہنے دیتا، وہ اس ظلم کو اپنی شاعری میں بیان کرتا ہے۔ ایک ادیب کسی بے گھر انسان کی کہانی لکھ کر اسے اعداد وشمار سے نکال کر زندگی کا حصہ بنا دیتا ہے۔ ایک دیانت دار صحافی دنیا کو وہ دکھاتا ہے جسے طاقت چھپانا چاہتی ہے۔ قلم کی طاقت فوری طور پر شاید بندوق جیسی محسوس نہ ہو لیکن وقت گزرنے کے بعد اکثر بندوق خاموش ہو جاتی ہے اور قلم کا لکھا زندہ رہتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انسان دنیا نہیں بدل سکتا۔ ہر شخص قائد نہیں بن سکتا، ہر آواز لاکھوں لوگوں تک نہیں پہنچتی اور ہر قلم کتاب کی شکل اختیار نہیں کرتا لیکن ہر انسان کے اختیار میں ایک چیز ضرور ہوتی ہے اور وہ اس کا اخلاقی انتخاب ہے۔ وہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ جھوٹ کو سچ نہیں کہے گا، ظلم کو معمول نہیں سمجھے گا اور مظلوم کے دکھ کو نظر انداز نہیں کرے گا۔ بعض اوقات ایک سچا جملہ ایک دیانت دار مؤقف یا مظلوم کے حق میں اٹھنے والی ایک آواز بھی انسانیت کی شمع کو روشن رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم، جدید مہارتیں اور کامیاب زندگی کے اصول تو سکھا رہے ہیں مگر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم انھیں بہتر انسان بننا سکھا رہے ہیں؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ رحم کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی اعلیٰ ترین شکل ہے؟ اگر تعلیم انسان کے اندر اخلاقی شعور پیدا نہ کرے تو وہ معلومات تو فراہم کر سکتی ہے مگر حکمت نہیں۔ وقت آگے بڑھتا رہے گا، نئے معاہدے ہوں گے، نئی سرحدیں کھینچی جائیں گی اور نئے سیاسی بیانیے تشکیل پائیں گے۔ آج کی سرخیاں کل کی تاریخ بن جائیں گی، مگر آنے والی نسلیں صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ اس زمانے کے حکمران کون تھے یا طاقت کس کے پاس تھی۔ وہ یہ بھی پوچھیں گی کہ جب انسانیت آزمائش میں تھی تو اہلِ قلم کہاں تھے؟ دانشور کیا لکھ رہے تھے، اساتذہ کیا سکھا رہے تھے، صحافی کیا دکھا رہے تھے اور عام لوگ کیا کر رہے تھے۔ آخرکار انسان کی اصل شناخت اس کی دولت، طاقت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے ضمیر سے ہوتی ہے۔ تہذیب کی روح اسی وقت زندہ رہتی ہے جب انسان دوسرے انسان کے درد کو اپنا درد سمجھنے کی صلاحیت برقرار رکھے۔ یہی احساس سماج کو محض ترقی یافتہ نہیں بلکہ مہذب بناتا ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ کا سب سے اہم سوال کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ جب ظلم ہو رہا تھا، جب معصوم جانیں خطرے میں تھیں، جب سچ دبایا جا رہا تھا اور خاموشی کو حکمت کا نام دیا جا رہا تھا تب ہمارا کردار کیا تھا؟ کیونکہ وقت سب کچھ بدل دیتا ہے مگر ضمیر کی عدالت میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ جب لوگوں نے خاموش رہنے کو دانش مندی جانا، تب کیا ہم نے سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا؟ اس سوال کا جواب کل تاریخ کا حصہ ہوگا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل