Loading
بلوچستان میں دہشت گردوں، شرپسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن شعبان پوری قوت سے جاری ہے۔ اس آپریشن کے دوران بیسیوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اگلے روز بلوچستان اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، اس اجلاس میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور یہ عہد کیا گیا ہے کہ ان اہم فیصلوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن شعبان کی کامیابی پر پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
بلوچستان میں جس قسم کی صورت حال ہے، اس میں ایک وسیع پیمانے پر آپریشن کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں جو اہم فیصلے ہوئے ہیں، ان پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہونا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اگلے روز بتایا ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی اور دہشت گرد اپنے انجام سے نہیں بچ سکتے۔
پاک فوج، فرنٹیئر کور اور بلوچستان پولیس دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں مشترکہ زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کا گھیرا تنگ کیے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے جاری مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 75 دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ یہ کامیابیاں سیکیورٹی فورسز کے بلند حوصلے اور موثر حکمت عملی کا ثبوت ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمعہ کے روز خضدار کے علاقے زیدی میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے کو بھی سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا ہے۔ بلوچستان کے عوام، حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں۔ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں۔
انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کے دشمنوں کا ہر محاذ پر تعاقب جاری رکھا جائے گا اور بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعہ کے روز بی اے مال کے قریب جاری دھرنے کے شرکاء اور شہداء کے لواحقین سے بھی ملے اور تفصیلی گفتگو کے دوران کہا ہے کہ دشمن ایک طرف قتل و غارت، بدامنی اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ہے تو دوسری طرف انھی جرائم کا الزام ریاست اور ریاستی اداروں پر تھوپنے کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں بھی مصروف ہے۔
بلوچستان کے محب وطن عوام کو دشمن کے اس مذموم بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے قومی یکجہتی، امن اور استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پہلے دن سے دھرنا کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، متاثرہ خاندانوں اور ان کے بزرگوں سے ان کا باہمی عزت و احترام پر مبنی دیرینہ تعلق ہے جو آیندہ بھی برقرار رہے گا۔ وہ ہمیشہ اپنی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے، پاکستان کے بہادر جوان وطن کے دفاع میں عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔
پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مختلف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ایک سازش دہشت گردی، تشدد اور قتل و غارت کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے جب کہ دوسری سازش انھی جرائم کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کرکے عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ عوام دشمن کے جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے سے مکمل طور پر ہوشیار رہیں اور کسی بھی ایسی مہم کا حصہ نہ بنیں جس کا مقصد قومی اداروں کو کمزور کرنا ہو۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن داد رسی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف بگٹی وہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کے پابند ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ہنہ شہداء کے ورثاء کو مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا، اہل خانہ کو سرکاری ملازمتیں دی جائینگی جب کہ شہداء کے بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔
انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کے مطابق دھرنا کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے جس کے بعد دھرنا کمیٹی اور شہداء کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی یقین دہانیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
دوسری جانب زیارت ، مانگی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعہ میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا نعشوں کے ہمراہ سمنگلی روڈ کوئلہ پھاٹک پر دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا، زیارت میں ڈی سی آفس کے سامنے جاری دھرنے کے شرکاء نے امن ریلی نکالی ، چھ جون کو بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید سات پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا نعشوں کے ہمراہ سمنگلی روڈ کوئلہ پھاٹک پر دھرنا جمعہ کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔
جب کہ واقعہ کے خلاف زیارت میں ڈی سی آفس کے سامنے جاری دھرنے کے شرکاء نے امن ریلی نکالی، ریلی میں دھرنا کمیٹی کے ارکان سمیت سیکڑوں لوگ شریک ہوئے جنہوں نے زیارت میں امن بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
کوئٹہ میں جاری دھرنے کے منتظمین نے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل ، غفلت کے مرتکب افراد کو سزا دینے، مسلح گروہوں کے خاتمہ ، لیویز فورس کودوبارہ بحال اور اہلکاروں کے ایک ضلع سے دوسرے ضلع تبادلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت بلوچستان نے زیارت میں دہشت گردوں کے حملے کے دوران شہید ہونے والے ایس ایچ او سمیت 18 پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ گیارہ لاکھ روپے مالی معاونت کی ادائیگی کے ریلیز آرڈر جاری کر دیئے ہیں جس کے بعد متعلقہ انتظامی افسران نے معاوضہ پیکیج شہداء کے گھروں تک پہنچا دیئے، معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ معاوضے کی ادائیگی کے یہ ریلیز آرڈر ان شہداء کے لیے جاری کیے گئے ہیں جن کی تدفین مکمل ہو چکی ہے۔
بلوچستان میں غیرملکی قوتوں کے سپانسرڈ دہشت گردوں نے جو کچھ کیا ہے، اس کی انھیں سزا ملنی چاہیے۔ بلوچستان خاصے عرصے سے شرپسندوں کے نشانے پر ہے۔ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ افغانستان میں کالعدم بی ایل اے، کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہ بغیر کسی پابندی اور رکاوٹ کے ٹریننگ کیمپ چلا رہے ہیں۔
دہشت گردوں کی مرکزی قیادت افغانستان میں کھلے عام نقل وحرکت کر رہی ہے اور ان حقائق کا علم افغانستان کی طالبان حکومت کو بخوبی ہے۔ بھارت اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کی لیڈرشپ کئی بار دہلی جا چکی ہے۔
اب بھی افغانستان کے وزیر زراعت، آبپاشی و لائیو سٹاک مولوی عطااللہ عمری ان دنوں بھارت کا دورہ کررہے ہیں۔ انھوں نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بیٹھ کر اعلان کیا ہے کہ میں بھارت میں بہت اپنائیت محسوس کر رہا ہوں، ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ میرا اپنا ملک ہو، ہمارا ڈی این اے ایک ہی ہے۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا بھارت کا پہلا دورہ ہے، بھارت پہنچنے کے پہلے ہی دن سے میرا بھارتی حکومت، وزیر خارجہ اور دیگر تمام افراد کی جانب سے نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔
بھارت میں انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ہی لوگوں کے درمیان موجود ہوں، انھوں نے کہا ایسا لگتا ہے جیسے یہ ہمارا اپنا ملک ہو۔ اس سے قبل بھی افغانستان کے کئی سیاسی رہنما اور وزیر بھارت کا دورہ کرچکے ہیں۔ ان کا بھی بھارت میں اسی قسم کا بیانیہ رہا ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت کی پالیسی کیا ہے؟ وہ نہ صرف افغانستان کے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں بلکہ اقوام عالم کو بھی دھوکے میں رکھ رہے ہیں۔
دوحہ مذاکرات میں طالبان کی قیادت نے جس معاہدے پر دستخط کیے اور جن اقدامات کا وعدہ کیا، اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے ان وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اس کے برعکس افغان طالبان روس پہنچے حالانکہ روس وہ ملک ہے جسے طالبان ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ اب وہ بھارت میں جا کر اپنے آپ کو بھارتی ثابت کر رہے ہیں۔ اس قسم کا دوہرا معیار افغان طالبان کی دوغلی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل