Loading
اسرائیلی امریکی فضائی حملوں سے شہید ہونے والے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ پوری ایرانی قوم ان کی شہادت پر غم سے نڈھال ہے۔ ایک جانب ایران میں اس وقت غم کا سماں ہے تو دوسری جانب دنیا کو انسانیت کا درس دینے والا اور عالمی امن کا ٹھیکیدار امریکا انھی دنوں اپنا اڑھائی سو سالہ جشن آزادی نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منا رہا تھا۔
صدر ٹرمپ جن کے حکم سے ایران پر حملہ ہوا اور ہر طرف تباہی پھیلی، اس وقت خوشی سے نہال تھے، صرف قیادت ہی خوش و خرم نہیں تھی، پوری امریکی قوم بڑی دھوم دھام سے اپنا جشن آزادی منا رہی تھی۔
امریکا میں خوشی کا یہ عالم تو دوسری جانب ایران میں رہبر اعلیٰ کی میت پر ایرانی عوام ہی نہیں، ایرانی قائدین بھی بلک بلک کر رو رہے ہیں مگر ٹرمپ اور ان کے ساتھی کیسے بے حس ہیں کہ کسی کے غم کو غم نہیں سمجھ رہے ہیں، اسے مذاق جان رہے ہیں۔
اگر ایرانی عوام اپنے رہبر اعلیٰ سے دیوانہ وار عقیدت نہ رکھتے ہوتے اور انھیں اپنے لیے ایک بوجھ سمجھتے تو یقینا وہی ہوتا جو ٹرمپ اور ان کا غلام نیتن یاہو خیال کر رہا تھا کہ اگر وہ رہبر اعلیٰ کو شہید کر دیں گے تو ایران تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا یعنی کہ وہاں انارکی پیدا ہوگی جس کا فایدہ اٹھا کر وہ اپنی من مانی کر سکیں گے یعنی کہ ایران کو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔
اب تو نہ صرف ٹرمپ بلکہ ان کے غلام نے بھی دیکھ لیا کہ ایرانی قوم اپنے رہبر اعلیٰ کی ان کے ہاتھوں شہادت کے بعد پہلے سے زیادہ مستعد اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی ہے پھر دشمن سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار بھی ہے۔ امریکی صدر کا یہ کہنا کہ ایرانی اپنے رہبر اعلیٰ کی شہادت پر جھوٹ موٹ رو رہے ہیں، ان کی یہ بات ایرانی قوم کو ہی نہیں دنیا کے ہر باشعور اور دردمند دل رکھنے والے شخص کو بری لگی ہے۔
ٹرمپ یہ بات کیوں بھول رہے ہیں کہ ایرانی رہبر اعلیٰ اور ان کے خاندان کے کئی افراد کی شہادت کے وہ خود ذمے دار ہیں، وہ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں تو یہ ہے امریکیوں کا ظرف، مگر دوسری جانب ایرانیوں کا ظرف دیکھئے کہ انھوں نے امریکی قوم یا قیادت کے اپنا یوم آزادی دھوم دھام سے منانے کے خلاف ایک بھی بیان نہیں دیا ہے۔
ٹھیک ہے ہر قوم کو اپنا جشن آزادی منانے کا حق حاصل ہے مگر اپنی آزادی کے جشن پر فخر وغرور کرنا ساتھ ہی دوسرے ملک کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دینا اور نقصان پہنچانے کے لیے سازشی ہتھکنڈے استعمال کرنا کہاں کا انصاف ہے۔
امریکا اپنی آزادی کا جشن ضرور منائے مگر دوسروں کی آزادی کی بھی قدر کرے، وہ اب سے 250 سال قبل برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہوا تھا مگر یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے امریکا میں آباد پرانے باشندے نہیں تھے بلکہ یہ مختلف یورپی ممالک سے یہاں آ کر آباد ہونے والے نئے لوگ تھے جن میں اکثریت برطانیہ سے ہی تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔
اس آزادی کی جنگ کی رہنمائی جارج واشنگٹن نے کی تھی۔ وہ ایک پرانے فوجی تھے جو برطانیہ کے لیے پہلے خدمات انجام دے چکے تھے مگر جب امریکی عوام نے برطانیہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، جارج واشنگٹن نے اس مہم کی قیادت سنبھال لی۔
ان کی قیادت میں امریکا برطانوی غلامی سے 4 جولائی 1776 کو آزاد ہوا اور جارج واشنگٹن امریکا کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے۔ انھوں نے 8 سال تک حکومت کی اور ملک کو جمہوری انداز میں چلایا۔ وہ شروع دن سے ہی امریکا کو دنیا کا سب سے خوشحال اور طاقتور ملک بنانے کا پروگرام لے کر چلے۔
ان کی 14 دسمبر 1799 میں وفات کے بعد جو بھی لوگ امریکی صدارتی منصب کے لیے منتخب ہوئے، انھوں نے بھی جارج واشنگٹن کے نظریے کے تحت امریکا کو ایک عالمی طاقت بنانے کے لیے بھرپور محنت کی۔ پہلی عالمی جنگ تک امریکا دنیا میں ایک اہم طاقتور اور خوشحال ملک کے طور پر اپنا مقام بنا چکا تھا چنانچہ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی یورپی ممالک کے خلاف جنگ میں امریکا نے اہم کردار ادا کیا اور جرمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، پھر دوسری جنگ عظیم میں بھی یورپی اقوام کو ہٹلر کی جارحانہ کارروائیوں سے محفوظ بنانے میں امریکا کا اہم کردار تھا۔
دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کو شکست دینے اور جرمنی کے حصے بخرے کرنے میں امریکا پیش پیش تھا۔ اس جنگ نے امریکا کو دنیا کی سپرپاور بنا دیا اور تب سے ہی امریکی قائدین فخر وغرور کی بیماری میں مبتلا ہو گئے اور دنیا کو اپنے اشاروں پر چلانے کی کوشش کرنے لگے۔
غریب ممالک کی اگرچہ امریکیوں نے دل کھول کر مدد کی مگر ساتھ ہی ان پر اپنے حکم پر چلنے کی پابندی بھی عائد کی۔ اس کے بعد امریکیوں نے اپنے ملک میں ضرور امن برقرار رکھا مگر عالمی امن میں خلل پیدا کیا اور اپنے مفاد کے لیے دنیا کو میدان جنگ بنا ڈالا۔
اشتراکیت کے خلاف بھی وہ صف آرا ہوگئے اور کئی ممالک کو اشتراکیت سے بچانے کے لیے اشتراکیت نواز ممالک سے نبردآزما ہو گئے جس کے نتیجے میں انھیں چین اور روس سے ٹکر لینا پڑی۔ کوریا میں روس اور چین دونوں سے محاذآرائی کرنا پڑی، پھر ویت نام میں بھی وہ اشتراکیت کے خلاف جنگ میں کود گئے مگر ہر جگہ انھیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
یہ تو اشتراکی ممالک سے شکست خوردگی کا احوال رہا، بعد میں عراق، شام، لیبیا اور افغانستان میں اپنی برتری قائم کی اور وہاں کی حکومتوں کو اپنے خلاف بولنے پر تباہ وبرباد کر دیا گیا اس لیے کہ یہ کمزور ممالک تھے مگر اس سے امریکا کو کیا حاصل ہوا؟
اسے سوائے رسوائی کے کچھ نہیں ملا، البتہ اس کی جو پہلے ایک غریب پرور اور ہمدرد ملک کے طور پر دنیا میں پہچان تھی وہ جاتی رہی، اب اسے ایک جارح ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کسی بھی وقت کسی ملک کو اپنے قبضے میں لے کر اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب امریکا بھی دنیا میں ماضی میں قائم عظیم سلطنتوں جیسے رومن امپائر، عثمانی سلطنت اور برطانوی سلطنت کی طرح اپنے زوال کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
کاش کہ اس کے حکمران اب اپنے فخر وغرور کو ختم کرکے اسے اڑھائی سو سال سے زیادہ طویل عمر کا حق دار بنانے کی کوشش کریں، اگر امریکی زوال پذیری پر غور کیا جائے تو اس میں اس کی اسرائیل سے دوستی کا بڑا عمل دخل نظر آتا ہے۔ کاش کہ صدر ٹرمپ جو خود کو بہت حقیقت پسند خیال کرتے ہیں، ایران سے صرف اسرائیل کی بنیاد پر دشمنی مول نہ لیں اور ایران کو بھی جینے کا حق دیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل