Loading
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے اور قیمتوں میں مصنوعی اضافے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے غذائ تحفظ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ملک میں گندم کی پیداوار، دستیابی، خریداری اور مارکیٹ میں قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے وہیٹ بورڈ کا نواں اجلاس ہوا، جس میں سیکریٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، پنجاب اور سندھ کے چیف سیکریٹریز، تمام صوبوں کے سیکرٹریز زراعت اور سیکریٹریز خوراک، وزارت کے سینئر افسران، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ملک بھر میں گندم کی مجموعی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، صوبائی نمائندوں نے متفقہ طور پر اجلاس کو آگاہ کیا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی علاقے میں گندم کی کوئی قلت نہیں۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے کہ رواں سال پاکستان میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 13 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن زیادہ رہنے کا تخمینہ ہے، وہیٹ بورڈ نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ گندم کی متوقع پیداوار کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے اور ملک کے پاس گندم کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبائی حکومتیں گندم کی مارکیٹ کی مسلسل نگرانی یقینی بنائیں اور مؤثر مارکیٹ مینجمنٹ کے لیے ضروری اقدامات کریں، شرکا نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان باقاعدہ اور موثر رابطے اور ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، مارکیٹ کی مؤثر نگرانی اور صارفین کو مناسب قیمتوں پر گندم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرے گی۔
وفاقی وزیر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطے کو مزید مؤثر بنائیں، مارکیٹ کی نگرانی مضبوط کریں اور گندم کی بلا تعطل فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے یا قیمتوں میں بلاجواز اضافے کا باعث بننے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل