Loading
انتشاری کمیٹی تمام ہتھکنڈے ناکام ہونے کے بعد معصوم طلبہ و طالبات کو اپنے احتجاج کا ایندھن بنانے پر اتر آئی ہے۔
کالعدم انتشاری کمیٹی کے سرغنہ نے اسکولوں کے معصوم بچوں اور بچیوں کو بطور حربہ استعمال کرنے کی ترغیب دے دی۔
ویڈیو میں انتشاری کمیٹی کے سرغنہ کی جانب سے مذموم عزائم کے حصول کے لیے طلبا کو استعمال کرنے پر اکساتے دیکھا جا سکتا ہے۔
انتشاری کمیٹی کے سرغنہ نے اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ 13 جولائی کو احتجاجی مظاہرے میں ہم اپنے بچوں کو اسکولوں کی یونیفارم اور بیگز کے ساتھ لے کر نکلیں گے۔
سرغنہ انتشاری کمیٹی کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے والے طلبہ و طالبات کے ہاتھوں میں کتابیں اور بینرز ہوں گے، کالعدم انتشاری کمیٹی کے سرغنہ پہلے بھی بچوں کو اسکولوں سے باہر رکھنے جیسے اشتعال انگیز اور گمراہ کن بیان دے چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تمام تر اوچھے ہتھکنڈے کی ناکامی اور عوام کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد انتشاری کمیٹی اب عورتوں اور بچوں کو بطور شیلڈ استعمال کرنا چاہتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے مستقبل اور آزاد جموں و کشمیر کے امن و امان کے دشمن کبھی بھی عوام کے حقوق کے محافظ نہیں ہو سکتے، کالعدم ایکشن کمیٹی اپنے بیرونی آقاؤں کی ایماء پر مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کو تباہ کرنے کے درپہ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل