Loading
سپریم کورٹ، نیب ترمیمی ایکٹ 2026کے بعد اپیل وفاقی آئینی عدالت سنے گی ؟ یا سپریم کورٹ ؟ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے موقف اختیا ر کیا کہ نیب مقدمات کی اپیلیں اور ضمانتیں اب وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی ، ایسا ممکن نہیں کہ کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ سنے اور دوسراوفاقی آئینی عدالت، نیب نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی۔
سپریم کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس مسر ت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت وفاقی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ نیب ترمیمی ایکٹ 2026کے تحت ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف نیب مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی اپیلوں پر سماعت سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی۔
نیب نے بھی حکومتی موقف کی تائید کی، دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا سپریم کورٹ کا نیب کیس میں دائرہ اختیار نہیں،نیب قانون میں ترمیم کے بعد ضمانت اور سزا کیخلاف اپیلیں آئینی عدالت سنے گی، ایسا ممکن نہیں کہ کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ سنے اور دوسرا آئینی عدالت ضمانت دینے کا اختیار عدالت کا ہے۔
عدالت ریکارڈ کا جائزہ لیکر ضمانت کا فیصلہ کرتی ہے، نیب کیسز میں اپیل بنیادی حق ہے، اپیل کا حق نیب کی حالیہ ترامیم کے زریعے وفاقی آئینی عدالت کو دیا گیا ہے، اپیل کا حق ختم نہیں کیا گیا، آرٹیکل 175 ایف ٹو کے تحت سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات خودکار طور پر آئینی عدالت منتقل ہوگئے۔
نیب ترمیم کا ایکٹ مارچ 2026 میں آیا، ایکٹ میں لکھا گیا ترمیم کا اطلاق اس وقت سے ہوگا جب سے اصل قانون بنا تھا، نیب کے تمام کیسز ازخود وفاقی آئینی عدالت ٹرانسفر ہوچکے ہیں، ترمیم کے زریعے اپیل کا فورم وفاقی آئینی عدالت کو دیا گیا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کیا نیب کیسز وفاقی آئینی عدالت منتقل ہوئے۔
نیب وکیل نے بتایا ابھی کیسز ٹرانسفر نہیں ہوئے۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسارکیا کیا نیب کیسز میں سپریم کورٹ ضمانت دے سکتی ہے۔نیب وکیل نے کہا نیب ترمیمی ایکٹ 2026 میں اپیل کا حق وفاقی آئینی عدالت کو دیا گیا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ضمانت کا فورم الگ ہو اور اپیل کا فورم الگ ہو، نیب کیسز میں ضمانت اور اپیل دونوں کے فورمز وفاقی آئینی عدالت ہی ہیں،ضمانت اور اپیل کا فورم ایک ہی ہونا چاہیے، بعض اوقات عدالتیں ضمانت کیس میں میرٹس کو بھی زیر بحث لاتی ہیں۔
دوران سماعت عباد الرحمان لودھی نے کہا نیب ترامیم میں کہیں نہیں لکھا کہ ضمانت کا کیس آئینی عدالت سنے گی، قانون کے مطابق صرف سزا کیخلاف اپیلیں ہی آئینی عدالت سن سکتی ہے، نیب ترمیم کے بعد سپریم کورٹ ایک کیس میں ضمانت دے چکی ہے۔
نیب نے پہلے ضمانت کے کیس میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں کیا۔عدالت نے استفسار کیا کیا نیب نے پہلے اعتراض کیا تھا؟ ۔نیب وکیل نے جواب دیا 18 مارچ کو ہونے والے کیس میں دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں کیا تھا۔جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا دائرہ اختیار تو سب سے پہلے رکاوٹ ہوتی ہے جو آپ نے خود ہی ہٹا دی تھی،یہ تو آپکی غلطی ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا نیب کے موقف میں اچانک تبدیلی کیوں آ گئی؟ ۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب الجواب کی تیاری کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے مزید سماعت جمعرات 16 جولائی ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی ۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا 16 جولائی کو ہمارا دو رکنی بنچ ہے،چیف جسٹس پاکستان سے گزارش کریں گے اس کیس کیلئے یہ تین رکنی خصوصی بنچ تشکیل دیا جائے۔
واضح رہے بانی پی ٹی آئی اور اُنکی اہلیہ نے بھی 190ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانتیں مسترد ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں تاہم رجسٹرار آفس نے اپیلوں پر اعتراضات عائد کرکے واپس کردی جس کے خلاف پی ٹی آئی نے چیمبر اپیلیں دائر کر رکھی ہیں ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل