Loading
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے تحت طے پانے والے وعدوں کو معطل کردیا ہے۔
ایرانی خبرایجنسی فارس نیوز کو انٹرویو میں نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتاایا کہ ہم نے اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے تحت کیے گئے وعدے معطل کردیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے فریم ورک کے تحت کیے گئے تمام وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور معطل کردیا ہے۔
کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی اپنے وعدے معطل کردیے ہیں، ہم ان پر عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں اور اپنے ملک کے دفاع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
???? غریبآبادی: تعهداتمان در تفاهمنامه اسلامآباد را متوقف کردهایم
معاون حقوقی وزارت خارجه: آمریکا تمام تعهداتش در چهارچوب یادداشت تفاهم اسلامآباد را زیر پا گذاشته و متوقف کرده است.
ما هم تعهدات خود را متوقف کردهایم، در حال اجرای آنها نیستیم و مشغول دفاع از کشوریم. pic.twitter.com/OEn89rB0EC
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) July 18, 2026
اس سے قبل وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران اپنی سرحد کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا اور امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ بندر خمیر پل عبور کرتے ہوئے تین شہری شہید ہوگئے ہیں ہم ان کے پاک خون کو رائیگاں جانے نہیں دیں گے، ایران جنوب سے شمال اور مشرق سے مغرب تک اپنے عوام سے منسلک ہے اور قوم آخری سانس اپنے ملک کے ہر ذرے کا دفاع کرے گی۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے صدور نے 17 جون 2026 کو پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے تھے، جس میں طے پایا تھا کہ حتمی جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے اور اس دوران ایک دوسرے پر حملے روکے جائیں گے۔
اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے تحت دونوں فریق کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں پہلی دفعہ براہ راست مذاکرات ہوئے، جس کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تیکنیکی مذاکرات کیے گئے تاہم اسلام آباد میں شیڈول تیسرا دور شروع ہونے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملے شروع ہوگئے۔
امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں جبکہ تازہ حملوں میں امریکا نے ایران کے مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، جس کے نیتجے میں 30 سے زائد شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں، ان حملوں میں رابطہ پلوں اور متعدد عمارات سمیت اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، بحرین اور قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور سعودی عرب میں بھی امریکی بیس پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل