Saturday, July 18, 2026
 

برسات اور آشوبِ چشم

 



برسات کا موسم جہاں حبس زدہ ماحول میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور مرجھائے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا ہے، وہاں اپنے ساتھ ہوا میں نمی کا ایسا طوفان بھی لاتا ہے جو بے شمار مائیکرو آرگنزمز، وائرس اور بیکٹیریا کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ بارش کی رم جھم اور مٹی کی سوندھی خوشبو کے پیچھے چھپے اس مرطوب موسم کا ایک ایسا تاریک پہلو بھی ہے جو ہر سال لاکھوں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اور وہ ہے آنکھوں کی شدید سوزش جسے طبی زبان میں کنجکٹیوائٹس اور عوامی اصطلاح میں آشوبِ چشم کہا جاتا ہے۔ یہ مرض برسات کے دنوں میں ایک خاموش وبا کی طرح پھیلتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے کے پورے خاندان اور دفاتر کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اخبارات کے صفحات اور ہسپتالوں کی او پی ڈیز ان دنوں اسی ایک مرض کے مریضوں سے بھری نظر آتی ہیں، جس کی بڑی وجہ اس بیماری کے پھیلاؤ کی تیز رفتار اور عوام میں اس کے حوالے سے پائی جانے والی معلومات کی کمی ہے۔ اس وبائی مرض کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اس کی بنیادی اقسام اور علامات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ برسات کے موسم میں آشوبِ چشم بنیادی طور پر تین مختلف شکلوں میں حملہ آور ہوتا ہے جن میں وائرل، بیکٹیریل اور الرجک اقسام شامل ہیں۔ مرطوب موسم میں سب سے زیادہ تباہی وائرل اور بیکٹیریل انفیکشن مچاتے ہیں جو ایک سے دوسرے انسان میں بجلی کی سی تیزی سے منتقل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، ہوا میں موجود پولن، فضا میں معلق گرد و غبار اور نمی کی وجہ سے الرجی کی قسم بھی سر اٹھاتی ہے۔ جب یہ مرض کسی پر وار کرتا ہے تو اس کی پہلی علامت آنکھوں کا یکدم گلابی یا گہرا سرخ ہو جانا ہے۔ مریض کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی آنکھوں میں ریت کے ذرات یا مٹی چبھ رہی ہو۔ اس چبھن کے ساتھ ہی آنکھوں سے مسلسل پانی بہنے لگتا ہے اور پلکوں کے گرد لیس دار مادہ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ رات کو سونے کے بعد جب مریض صبح بیدار ہوتا ہے تو یہ خشک مادہ اس کی پلکوں کو اس طرح آپس میں چپکا دیتا ہے کہ آنکھیں کھولنا محال ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ روشنی کا برا لگنا، آنکھوں کے پپوٹوں پر شدید سوجن اور ہر وقت کی خارش انسان کو بے حال کر دیتی ہے۔ آشوبِ چشم کے پھیلاؤ کے اسباب پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری روزمرہ کی چند نادانیاں اور صفائی کے اصولوں سے تغافل اس وبا کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔ سب سے بڑی وجہ آلودہ ہاتھوں کا بار بار آنکھوں کو چھونا ہے۔ جب ہم کسی متاثرہ جگہ، جیسے دروازے کے ہینڈل، کمپیوٹر کے کی بورڈ یا پبلک ٹرانسپورٹ کی سیٹوں کو چھوتے ہیں اور وہی ہاتھ بغیر دھوئے اپنی آنکھوں پر لگا لیتے ہیں، تو جراثیم کو منتقل ہونے کا سنہری موقع مل جاتا ہے۔ برسات کے دنوں میں گلی کوچوں میں کھڑا ہونے والا گندا پانی، یا ایسے سوئمنگ پولز جن کے پانی کو باقاعدگی سے کلورین کے ذریعے صاف نہ کیا گیا ہو، اس مرض کے پھیلاؤ کا بہت بڑا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھر کے اندر ایک ہی تولیے، رومال، تکیے کے غلاف، عینک یا خواتین کے میک اپ کی اشیاء کا مشترکہ استعمال اس وائرس کو ایک فرد سے دوسرے فرد تک پہنچانے میں پُل کا کردار ادا کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اس مرض کی لپیٹ میں آ جائے تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فوری طور پر اس کی شدت کو کیسے کم کیا جائے۔ اس مرحلے پر کسی بھی قسم کی جلدی یا غلط دوا کا انتخاب نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ فوری ریلیف کے لیے سب سے بہترین اور محفوظ طریقہ ٹھنڈی ٹکور ہے۔ صاف ستھرے روئی کے پیڈز یا ململ کے کپڑے کو ٹھنڈے پانی میں بھگو کر بند آنکھوں پر کچھ دیر کے لیے رکھنے سے جلدی اور سوجن میں فوری طور پر نمایاں کمی آتی ہے۔ آنکھوں سے نکلنے والے لیس دار مادے کو صاف کرنے کے لیے ابلے ہوئے نیم گرم پانی میں روئی کو بھگو کر اندرونی کونے سے باہر کی طرف آہستہ سے صاف کرنا چاہیے اور ہر بار نئی روئی کا استعمال کرنا چاہیے۔ عارضی سکون کے لیے مستند طبیب کی ہدایت پر بغیر کسی سٹرائڈ کے کلوٹس یا لبریکیٹنگ آئی ڈراپس (مصنوعی آنسو) استعمال کیے جا سکتے ہیں جو آنکھ کی خشکی اور رگڑ کے احساس کو کم کرتے ہیں۔ آشوبِ چشم سے بچاؤ کی تدابیر اور اقدامات ہی دراصل اس وبا کا اصل علاج ہیں۔ برسات کے پورے موسم میں صابن اور پانی سے بار بار ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے، بالخصوص باہر سے گھر لوٹنے کے بعد بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا لازم ہے۔ اگر آپ کا واسطہ کسی ایسے ماحول سے پڑتا ہے جہاں یہ مرض پھیلا ہوا ہے، تو لازمی طور پر سیاہ یا گہرے رنگ کا چشمہ استعمال کریں۔ یہ چشمہ نہ صرف آپ کی آنکھوں کو گرد و غبار اور ہوا کے تھپیڑوں سے بچاتا ہے بلکہ آپ کو نادانستہ طور پر اپنی ہی آنکھوں کو رگڑنے سے بھی روکتا ہے۔ گھر کے اندر متاثرہ مریض کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام ذاتی اشیاء کو بالکل الگ کر لے اور گھر کے باقی افراد کچھ دن کے لیے اس سے مصافحہ کرنے اور قریبی رابطے سے گریز کریں۔ اس مرض کے حوالے سے معاشرے میں کئی عجیب و غریب غلط فہمیاں اور کہانیاں بھی جنم لیتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سب سے بڑی اور عام غلط فہمی یہ ہے کہ آشوبِ چشم مریض کی آنکھوں میں دیکھنے سے پھیلتا ہے۔ یہ ایک بالکل لغو اور غیر سائنسی تصور ہے۔ وائرس کسی شعاع کی طرح آنکھوں سے نکل کر دوسرے کی آنکھ میں داخل نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف اور صرف مائع یا چھونے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ کالا چشمہ مریض کو اس لیے پہننا چاہیے تاکہ وہ روشنی کی چبھن سے بچ سکے اور اس کے ہاتھ بار بار آنکھ کو نہ لگیں، نہ کہ اس لیے کہ اس کی نظر سے دوسرے بیمار ہو جائیں گے۔ ایک اور بڑی غلط فہمی مدتِ مرض اور اس کے علاج کی جلد بازی سے متعلق ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی جادوئی ڈراپ ڈالنے سے یہ بیماری چند گھنٹوں میں ختم ہو جائے گی، اور اسی چکر میں وہ عطائیوں کے ہتھے چڑھ کر یا خود سے سٹیرائڈز والے خطرناک آئی ڈراپس استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ خود تشخیصی عمل آنکھ کے قرنیے کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وائرل آشوبِ چشم اپنی ایک مخصوص مدت رکھتا ہے جو عام طور پر پانچ سے سات دن، اور بعض اوقات دو ہفتے تک محیط ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس اپنا لائف سائیکل پورا کر کے ہی دم لیتا ہے۔ اس دوران کی جانے والی تمام تدابیر صرف علامات کی شدت کو کم کرنے اور آنکھ کو پرسکون رکھنے کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ مرض کو یکدم غائب کرنے کے لیے۔ برسات کا لطف اٹھائیے، لیکن اپنی اور اپنے پیاروں کی آنکھوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیجیے کیونکہ احتیاط ہی اس وبائی موسم کا سب سے کارآمد ہتھیار ہے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل