Loading
بھارت کی 60 سے زائد ممتاز ادیبوں، فلم سازوں، فنکاروں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی 20 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں.
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سونم وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت پر ملک بھر میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ آپ ہماری اجتماعی آواز اور ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم آپ کو کھونا نہیں چاہتے۔ آپ کی زندگی اس جدوجہد کے لیے انتہائی قیمتی ہے۔
بیان پر دستخط کرنے والوں میں معروف ناول نگار اروندھتی رائے، فلم ساز زویا اختر اور دیگر ممتاز شخصیات شامل ہیں، جنہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سونم وانگچک اور احتجاج کرنے والوں سے فوری مذاکرات کرے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک دہلی میں 20 روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کا احتجاج امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وفاقی وزیر تعلیم کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کی حمایت میں جاری ہے۔ احتجاج میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہے، جبکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث سونم وانگچک کا وزن نمایاں حد تک کم ہو چکا ہے اور ان کی صحت تشویشناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس سے اعضا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل