Loading
وکلا ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے پریس کانفرنس میں علی احمد کرد کی سربراہی میں وکلا تحریک چلانے کی قرارداد منظور کرنے کا اعلان کر دیا۔
حامد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی تعطیلات کے بعد وکلا تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جبکہ وکلا نے قرارداد کا متن بھی میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنایا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ ججز کی تعیناتی کا موجودہ طریقہ کار خوفناک حد تک تباہ کن ہے اور ججز کا انٹرویو ایک مذاق بن چکا ہے۔
علی احمد کرد نے کہا کہ ساتھیوں کے اصرار پر بادلِ نخواستہ تحریک کی سربراہی قبول کی، اب معاملہ صرف 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم تک محدود نہیں رہا، بلکہ لوگوں کا سیاسی نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب عوام کی نظریں پاکستان کے وکلا پر ہیں، اس تحریک میں عوام کو بھی شامل کیا جائے گا، پہلا عوامی جلسہ خیبرپختونخوا میں ہوگا، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی دعوت پر لندن میں بھی پروگرام کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل