Monday, July 20, 2026
 

محبت زندہ باد

 



برصغیرکے مسلم عوام میں جومحبت ، احترام اور مقبولیت قائداعظم محمد علی جناح ؒکے حصہ میں آئی، وہ کسی اور قومی راہنما کو نصیب نہیں ہو سکی۔ ان کی زندگی میں ان کے مقابل ان کے کسی حریف کا چراغ جل سکا، نہ ان کے بعد کوئی ان کی رفعت کو چھو پایا ہے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ قوم کے دل میں ان کے لیے یہ محبت مزید بڑھتی جاتی ہے۔ اس محبت کی قدروقیمت سوا ہو جاتی ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران وہ مسلم عوام، جو ان پڑھ یا انگریزی سے نابلد ہونے کے باعث ان کے خطاب کو سمجھنے سے قاصر تھے، وہ بھی بڑھ چڑھ کر ان کے جلسوں میں جاتے، اوران کے خطاب پر سر دھنتے دکھائی دیتے تھے۔ مرحوم کرنل (ر) امجد حسین، جو23 مارچ 1940ء کو لاہور میں قائداعظم کی زیرصدارت مسلم لیگ کے تاریخی جلسہ میں بھی حاضر تھے، راوی ہیں کہ ان کے ساتھ ان کا ملازم شریف بھی گیا تھا۔ قائداعظم انگریزی میں تقریر کر رہے تھے، اور اس دوران جب ان کی کسی بات پر لوگ تالیاں بجاتے ، تو وہ بھی تالیاں بجاتا تھا۔ میں نے پوچھا، ’’شریفے، تمھیں سمجھ آ رہی ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا،’’سمجھ تو نہیں آ رہی، پر میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ بابا جو کہہ رہے ہیں، ٹھیک کہہ رہے ہیں‘‘۔ کسی قومی قائد کی عظمت کی یہ معراج ہے۔ مجھے یاد ہے کہ70ء کی دہائی میں جب ہماری نسل نے ہوش سنبھالا، تو ہم اپنے اردگرد ہرگھر ایسے بزرگ دیکھتے تھے، جنھوں نے قائداعظم کو دیکھ رکھا تھا، اور تحریک پاکستان میں ان کے کسی نہ کسی جلسہ میں شرکت کر چکے تھے۔ یہ وہ بزرگ تھے، جن کی آنکھوں میں اپنے قائد کے بعد اب کوئی اور جچتا ہی نہیں تھا، مثلاً : میرے والد مرحوم روایتی معنوں میں کوئی سیاسی کارکن نہیں تھے، تاہم روزانہ باقاعدگی سے اخبار کا مطالعہ کرتے، اور احباب کے ساتھ سیاست پر بے تکان گفتگو کرتے تھے۔ تحریک پاکستان کے دوران راولپنڈی، جہاں وہ ان دنوں روزگار کے سلسلہ میں مقیم تھے، میں قائداعظم کے جلسے، اور جنرل ایوب کے خلاف صدارتی الیکشن کے دوران گجرات میں مادرملت فاطمہ جناح کے جلوس اور ہارس شو گراونڈ میں ان کے خطاب کی روداد بڑے جوش و خروش سے سنایا کرتے تھے۔ 1977ء تک وہ ’مسلم لیگ‘ کے مقامی جلسوں میں بھرپور شرکت کرتے رہے، تاہم جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے بعد1998ء میں اپنی وفات تک سیاست میں ان کی دل چسپی محض ’مسلم لیگ‘ کے نام پر ووٹ دینے کی حد تک رہ گئی تھی، جو بھی ’مسلم لیگ‘ کے نام پر آجائے۔ یہ بھی دیکھتے تھے کہ سیاسی گفتگو میں بحث کہیں سے بھی شروع ہوتی، وہ اس کا اختتام قائداعظم کی قیادت اور سیاست ہی پرختم کرتے تھے۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا، جیسے قائداعظم کے بعد دوسرے سیاستدان ان کے نزدیک سرے سے کوئی وجود ہی نہیں رکھتے ہیں۔ قائداعظم کے ساتھ محبت کے باب میں یہ صرف گجرات شہر اور تنہا میرے والد کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اس فرد کی کہانی ہے، جس نے اپنی زندگی میں قائد کا زریں عہد پایا تھا ۔ چنانچہ، کچھ عرصہ بعد جب میں گجرات سے نکل کر لاہور آیا، جو پنجاب میں تحریک پاکستان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا تھا، اور یہاں شعبۂ صحافت سے وابستگی کی بدولت کئی ایسے بزرگوں سے ملنے کا موقع ملا، جو تحریک پاکستان کے دوران قائداعظم ؒکو براہ راست دیکھ ، سن یا مل چکے تھے، جیسے: محمد حسین چٹھہ، احمد سعیدکرمانی، ممتاز احمد خاں، خواجہ افتخار، ملک غلام نبی، کرنل (ر)امجد حسین، تو سبھی کو قائد اعظم کے لیے اسی جذبہ سے سرشار پایا، جس جذبہ سے سرشار ہم بچپن سے والد صاحب کو دیکھتے آئے تھے۔ کرنل امجد حسین صاحب پر تو قائداعظم کے ذکر پر گہری رقت طاری ہو جاتی، آواز بھرا جاتی اور فرط جذبات سے آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ قائداعظم کے ساتھ محبت کا یہی جذبہ تھا، جس کے تحت کئی سال پہلے محبان قائد، جن کی قیادت ’نوائے وقت‘ کے ایڈیٹر مجید نظامی کر رہے تھے، ’ادارہ نظریہ پاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے یہ عزم کیا کہ لاہور، جہاں23 مارچ 1940ء کو قائداعظم کی زیر صدارت ’قرارداد پاکستان‘ منظور ہوئی تھی، یہیں، اسی شہر میں ان کے نام پر ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ تعمیرکی جائے، جو نہ صرف ان پر آزادانہ علمی، تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز ہو، بلکہ اس کے اندر الحمراء کی طرز پر بڑے بڑے ہال بھی ہوں، جہاں قائد کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کے لیے پورا سال، بغیر کسی وقفہ کے، نظریاتی اجتماعات کے انعقادکا سلسلہ جاری رہے۔ یاد رہے کہ ’ادارہ نظریہ پاکستان‘ کی بنیاد جولائی1992ء میںاس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں نے رکھی تھی، جن کو قائداعظم اور مسلم لیگ سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ ان سے میری پہلی ملاقات ان کی وزارت اعلیٰ ختم ہونے کے فوراً بعد ڈیوس روڈ لاہور پر واقع مسلم لیگ ہاؤس میں ہوئی، جہاں میں نے ہفت روزہ ’زندگی‘ کے لیے ان کا انٹرویو کیا تھا۔ وہ ان دنوں مسلم لیگ ہاؤس کی چھت پر ایک سادہ سے کمرے میں تنہا رہتے تھے، اور یہیں سے پنجاب میں مسلم لیگ کی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔  اپریل2008ء میں حکومت پنجاب نے اسمبلی ایکٹ کے ذریعے ’ادارہ نظریہ پاکستان‘ کو قانونی شکل دے دی، اور مجید نظامی اس کے منتخب چیئرمین قرار پائے۔ جولائی2014ء میں ان کی وفات کے بعد یہ ذمے داری سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر رفیق احمد کو تفویض ہوئی۔ اگست2014 ء میں سابق صدر رفیق احمد تارڑ کو چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ مارچ 2022ء میں ان کے انتقال کے بعد وائس چیئرمین اور تحریک پاکستان کے معروف کارکن میاں فاروق الطاف کو ادارہ کی سربراہی کی سعادت نصیب ہوئی، جب کہ اپریل2022 ء سے یہ قومی نظریاتی ادارہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اعجاز نثارکی چیئرمین شپ میں سرگرم کار ہے۔ میاں فاروق الطاف سینئر وائس چیئرمین، جب کہ مشاہد حسین سید اور جنرل (ر) عبدالقیوم وائس چیئرمین ہیں۔ ادارے کی معاونت و مشاورت کے لیے 21 رکنی بورڈ آف گورنرز اور 40 رکنی جنرل کونسل بھی موجود ہیں۔ میری خوش نصیبی ہے کہ اس نظریاتی قومی ادارے سے میری جان پہچان شروع سے چلی آ رہی ہے کہ اس کے بانیان غلام حیدر وائیں اور مجید نظامی سے ابتدائی تعارف اسی زمانہ میں ہوا۔ نظامی صاحب سے اول اول بھائی روف طاہر مرحوم کی رفاقت میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ ہفت روزہ ’زندگی‘ کیلیے ان کا انٹرویو ہم دونوں نے مشترکہ طور پرکیا تھا۔ بعدازاں نظامی صاحب کے ساتھ ذاتی نیازمندی کا رشتہ بھی قائم ہو گیا، جس کی یادگار ان کی وہ یادداشتیں ہیں، جو میری درخواست پر انھوں نے اپنے گھر پر ریکارڈ کرائیں، بلکہ اس کے مسودے کے بعض حصوں کو خود ایڈٹ بھی کیا،جو میرے پاس بطور تبرک آج بھی محفوظ ہیں۔ بعدازاں، مسلسل 12سال تک ان کی براہ راست راہ نمائی میں، پہلے ایڈیٹر و مینیجنگ ایڈیٹر’ندائے ملت‘ اور پھر ایڈیٹر ’نوائے وقت‘ سنڈے میگزین کے طور پر کام کرنے کا تجربہ ہوا ۔ رفیق تارڑ صاحب سے پہلی ملاقات بھی اسی دور میں ہوئی، جب وہ صدارت سے فراغت کے بعد جوہر ٹاون اپنے ذاتی گھر میں گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ’نوائے وقت‘ کے لیے میں نے ان کا جو انٹرویوکیا، وہ ان کی زندگی کا طویل ترین انٹرویو تھا۔ یہ انٹرویو ان کو اتنا پسند آیا کہ اس کی اشاعت کے چند روز بعد مجھے اپنے گھر رات کے کھانے پر بلایا، اور دیر تک باتیں کرتے رہے۔ بعد میں بھی جب کہیں ملتے، تو بڑی شفقت کا برتاؤ کرتے۔ مسلم لیگ کے سابق سیکریٹری جنرل، سینیٹر اور دانشور مشاہد حسین سید صاحب، جو سیاسی اور غیر سیاسی عہدوں سے بے نیاز، ہر دور میں پاکستانیت کا پرچم لہراتے نظر آتے ہیں، ان سے بھی اس زمانے کی شناسائی ہے۔ قومی اور بین الاقوامی، ہر فورم میں وہ جس دبنگ انداز میں پاکستانیت کی بات کرتے ہیں، یہ بانی پاکستان سے سچی محبت کے بغیر ممکن نہیں، اور وہ خوش قسمت ہیں کہ یہ محبت ان کو اپنے والدکرنل امجد حسین سے ورثہ میں ملی ہے۔ آج ٹھوکر نیاز بیگ موٹر وے سے لاہور کے اندر داخل ہوں تو نہرکنارے سب سے پہلے جس وسیع و عریض، بلند و بالا اور پرشکوہ عمارت پر نظر پڑتی ہے، وہ یہی’ایوان قائداعظم‘ہے ۔ یہ ایوان قائد پر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز ہی نہیں، اہل پاکستان کی ان سے اٹوٹ محبت کا اظہار، بلکہ شاہکار بھی ہے، وہ محبت جو ان کی رحلت کے برس ہا برس بعد، آج بھی اہل دل کو گرماتی اور تڑپاتی ہے۔ اس قومی ایوان سے وابستگی اور بانی پاکستان پر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ بننے کی سعادت کا اندازہ کچھ اہل دل ہی کر سکتے ہیں ، بقول شاعر  حدیث دوست نگویم مگر بہ حضرت دوست کہ آشنا سخن آشنا نگہ دارد

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل