Tuesday, July 21, 2026
 

3 سالہ بھتیجی کو بے دردی کو قتل کرنے والی سفاک چچی کے سنسنی خیز انکشاف، قتل کر کے شرمناک کام بھی کیا

 



شہر قائد کے علاقے قائد آباد میں بے دردی سے قتل کی جانے والی تین سالہ بچی کلثوم کی سگی چاچی نے تفتیش کے دوران انکشافات کیے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق قائد آباد میں بیدردی سے قتل کی جانے والی ننھی کلثوم سگی چچی کی حسد کا نشانہ بنی، سگی چچی دیگر اہلخانہ کی جانب سے کمسن کلثوم سے محبت اور شفقت کے اظہار پر انتقام کی آگ میں ایسی اندھی ہوئی ہے اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ خود بھی ایک ماں ہے۔ ملزمہ سگی چچی سکینہ بھی 2 بچوں کی ماں ہے جو اسپیشل چائلڈ ہونے کی وجہ سے ننھی کلثوم سے حسد کرتی تھی اور اسی حسد کی آگ نے اسے قاتلہ بنا دیا۔ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر کے دفتر میں قائد آباد سے گزشتہ ماہ 23 جون کو گھر کے مرکزی گیٹ کے قریب سے بوری میں بند ملنے والی 3 سالہ کلثوم قتل کیس کے حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر انویسٹی گیشن بشیر اور ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر عبدالخالق نے ننھی کلثوم قتل کیس کے حوالے سے گرفتار ملزمہ سکینہ اور اس کے بھائی نادر کی گرفتاری اور واقعے کی تفصیلات کے حوالے سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ ملزمان کی گرفتار کی 2 روز کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ قاتلہ سکینہ نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس کے 2 بچے ہیں جو کہ اسپیشل چائلڈ ہیں اور ان کے ساتھ گھر میں اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا جبکہ مقتولہ کلثوم کے دوسرے اہلخانہ جس میں دادا اور دیگر شامل ہیں وہ کلثوم سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کلثوم بہت پپاری، معصوم اور تمیزار تھی اور یہی کچھ وجوہات ننھی کلثوم کے قتل کا سبب بنیں جبکہ ملزمہ کسی کا کچھ نہیں کر سکتی تھی تو معصوم بچی اس کے ہاتھ لگ گئی اور اس نے ننھی کلثوم کو ہی نہ صرف اپنی حسد کی آگ کا نشانہ بنا ڈالا بلکہ بچی کے ساتھ زیادتی کا رنگ دینے کی انتہائی شرمناک اور سفاکانہ کوشش بھی کی گئی۔ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر نے پریس کانفرنس کے دوران 3 سالہ کلثوم کے قتل کے مزید تفصیلات کے حوالے سے بتایا کہ کلثوم کو اس چچی سکینہ نے اپنے گھر میں گلا دبا کر قتل کیا اور اس کے بعد اپنے کمرے میں اس کی لاش رکھی اور گھر کے اندر سے ہی ایک آٹے کی بوری لی جس کے اندر لاش کو رکھا۔  ملزمہ کا میکہ برابر والے گھر میں ہے جس نے اپنے بھائی کاور رازدار بنایا اور ٹاسک دیا کہ لاش کے ساتھ زیادیتی کا بھی رنگ دو جس کے بعد بیرونی اوبجیکٹ (Object) کی مدد سے انتہائی شرمناک عمل کے ذریعے بچی کو نقصان پہنچایا گیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور پولیس کی تفتیش کا رخ بدلا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس جب جائے وقوعہ پر پہنچی اور کرائم سین کا جائزہ لیا تو یہ ہمارے لیے ایک حیرت انگیز تھا کہ بچی کی لاش ایک آٹے کی بوری میں بند ملی تھی اور ان کے اپنے گھر کا جو مین گیٹ ہے اس کے اندر سے ملی تھی اور یہ بات سمجھ سے بالاتر تھی کہ اگر کوئی شخص بچی کو مارتا ہے تو آخر وہ اس کی لاش کیوں ان کے گھر کے اندر رکھے گا اور یہیں سے ابتدائی شک مقتولہ کے اہلخانہ کی جانب بھی گیا جس کے بعد 50 سے زائد افراد کو شامل تفتیش کیا گیا جس میں اہلخانہ کے علاوہ اہل علاقہ اور باہر کے لوگ بھی شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو جن پر شبہ تھا اس حوالے سے پولیس نے 15 سے زائد ڈی این اے کے نمونے بھی حاصل کیے جو کہ بچی کی لاش سے ملنے والے سپملز سے میچ نہیں ہوئے، نادر نامی ملزم بچی کا رشتے میں چچا لگتا ہے جو کہ مقتولہ کے والد کا چچا زاد بھائی ہے اس کے بیانات میں بھی کچھ ایسی چیزیں تھیں جن کی وجہ سے شک اور زیادہ پختہ ہوا۔ اس پر پولیس نے نادر سے مزید تفتیش کی تو اس نے پورا معاملہ کھول دیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق ملزمہ سکینہ اور اس کے بھائی نادر نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے تاہم تفتیش کا عمل جاری ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس میں کچھ اور بھی چہرے بے نقاب ہوں اور اس پہلو پر بھی پولیس باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل