Loading
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے سامنے برسرپیکار حماس نے اپنے ایک سینئر رہنما خلیل الحیہ کو تنظیم کے سیاسی بیورو کا نیا چیف منتخب کرلیا جو یحییٰ السنوار کی جگہ سنبھالیں گے۔
خلیل الحیہ حماس میں یحییٰ السنوار کے جانشین ہوں گے جنھیں 2024 میں اسرائیلی فوج کے ساتھ دو بدو جنگ کرتے ہوئے اپنی آخری سانس تک لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی تھی اور یہ مناظر اسرائیلی ڈرون میں محفوظ ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ یحییٰ السنوار نے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد قیادت سنبھالی تھی لیکن وہ چند ماہ بعد ہی شہید ہوگئے تھے۔ خلیل الحیہ خود بھی گزشتہ سال قطر میں اسرائیل کے ایک مبینہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے تھے۔
انتخاب کیسے ہوا؟
حماس کے جنرل شوریٰ کونسل نے تنظیم کے داخلی انتخابی عمل کے تحت نئے سربراہ کا انتخاب کیا۔ ابتدائی مرحلے میں نہ خلیل الحیہ اور نہ ہی سابق سربراہ خالد مشعل مطلوبہ اکثریت حاصل کر سکے تھے۔
جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان دوبارہ رائے شماری ہوئی جس میں خلیل الحیہ کامیاب قرار پائے۔ حماس اپنی تنظیمی ساخت اور داخلی ادارہ جاتی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
خلیل الحیہ کون ہیں؟
خلیل الحیہ 5 نومبر 1960 کو غزہ شہر میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن 1967 کی عرب اسرائیل جنگ اور اسرائیلی قبضے کے ماحول میں گزرا۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور اپنے خاندان کے افراد کی گرفتاریوں نے ان کی سیاسی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔
1980 میں حماس کے بانی شیخ احمد یٰسین سے ملاقات ان کی سیاسی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی، جس کے بعد وہ اسلامی تحریک سے باقاعدہ وابستہ ہو گئے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ اسلامی اسکالر
خلیل الحیہ نے اسلامی یونیورسٹی غزہ سے 1983 میں بیچلر ڈگری حاصل کی، بعد ازاں اردن یونیورسٹی سے 1986 میں ماسٹرز مکمل کیا جبکہ 1997 میں سوڈان سے علومِ حدیث میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
وہ اسلامی یونیورسٹی غزہ میں طلبہ امور کے ڈین بھی رہے اور فلسطینی علماء کی تنظیم سے بھی وابستہ رہے۔
حماس کے بانی اراکین میں شامل
1987 میں حماس کے قیام کے وقت خلیل الحیہ اس کے بانی اراکین میں شامل تھے۔ پہلی فلسطینی انتفاضہ کے دوران انہیں متعدد بار اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا جہاں انہیں سخت تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
2006 کے فلسطینی انتخابات میں وہ فلسطینی قانون ساز کونسل (PLC) کے رکن منتخب ہوئے اور حماس کے پارلیمانی بلاک کی قیادت بھی کی۔
جنگ بندی مذاکرات کے مرکزی کردار
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران خلیل الحیہ حماس کی سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔
انھوں نے 2012 اور 2014 کی غزہ جنگوں کے بعد جنگ بندی مذاکرات میں حماس کے وفود کی قیادت کی جبکہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد قطر اور مصر کی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں وہ حماس کے چیف مذاکرات کار رہے۔
قطر میں قیام کے دوران خلیل الحیہ نے مختلف علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جن میں لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ شہید حسن نصر اللہ سے ملاقات بھی شامل تھی۔
اسرائیل کے متعدد قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہے
خلیل الحیہ کی زندگی ذاتی سانحات سے عبارت رہی ہے۔ 2007 میں ان کے گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے دو بھائیوں سمیت 7 رشتہ دار شہید ہوگئے تھے۔
حماس رہنما خلیل الحیہ 2008 میں ان کے بیٹے حمزہ بھی اسرائیل کے ڈرون حملے میں شہید ہوگئے تھے جو القسام بریگیڈز کے رکن تھے۔
اسی طرح 2014 کی غزہ جنگ میں ان کی اہلیہ، بڑے بیٹے اسامہ اور تین پوتے پوتیاں بھی اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔
ستمبر 2025 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رہائشی کمپلیکس پر اسرائیلی حملے میں ان کے ایک اور بیٹے ہمام، دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لباد، تین محافظ اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار مارے گئے تاہم خلیل الحیہ محفوظ رہے۔
رواں براس ان کے ایک اور بیٹے عزام بھی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔
نئی ذمہ داریاں
خلیل الحیہ اس وقت تک سیاسی بیورو کے سربراہ رہیں گے جب تک موجودہ انتخابی مدت 2027 میں مکمل نہیں ہو جاتی۔
اس سے قبل وہ 2024 میں جنگی حالات کے دوران قائم کیے گئے پانچ رکنی عبوری قیادتی کونسل کے بھی رکن تھے، جس نے جنگ کے دوران تنظیمی امور سنبھالے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل