Tuesday, July 21, 2026
 

امریکا کا لبنان میں پائلٹ زون بنانے کا اعلان، اسرائیلی فوج کا انخلا بھی ہوگا

 



امریکا نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پہلے پائلٹ زونز میں کارروائیاں باضابطہ طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے میڈیا کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ جنوبی لبنان کے علاقوں فرون، صریفہ اور زوطر الغربیہ میں پائلٹ زونز کے لیے اقدامات 3 فریقی فریم ورک اور ملٹری کوآرڈینیشن گروپ برائے لبنان کی نگرانی میں کیے جا رہے ہیں۔  بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ مذاکرات کا عملی نتیجہ ہے جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم کرنا، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی کو ممکن بنانا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے اٹلی کے دارالحکومت روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ دونوں ممالک نے امریکی ثالثی میں ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت جنوبی لبنان میں مخصوص علاقوں کو آزمائشی بنیادوں پر فوجی انتظام کے نئے ماڈل کے تحت چلایا جائے گا۔ پائلٹ زونز میں کیا ہوگا؟ اس منصوبے کے تحت لبنان کے ان علاقوں میں موجود اسرائیلی فوج مرحلہ وار انخلا کرے گی۔ جن کی جگہ لبنانی فوج سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔ علاوہ ازیں غیر ریاستی مسلح گروہوں بالخصوص حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ان سے تمام ہتھیار لے لیے جائیں گے۔ امریکا کہ ماڈل اگر کامیاب رہا تو اسے جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ ادھر حزب اللہ نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے یا غیر مسلح ہونے کا مطالبہ قابل قبول نہیں ہے۔ حزب اللہ نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ سب سے پہلے اسرائیل کو غیر مشروط طور پر لبنانی علاقوں سے مکمل انخلا کرنا چاہیے۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ سرحدی علاقوں میں مسلح موجودگی ختم نہیں کرتی اس وقت تک مکمل انخلا ممکن نہیں ہوگا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ لبنان اور اسرائیل دونوں کے ساتھ مل کر فریم ورک پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ اور ملٹری کوآرڈینیشن گروپ اس پورے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی برقرار رہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مستقل سکیورٹی انتظامات کی راہ ہموار ہوسکے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل