Tuesday, July 21, 2026
 

ایران سے کشیدگی کے دوران امریکی تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

 



واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکا کے خام تیل اور پیٹرولیم ذخائر تیزی سے کم ہو کر تقریباً ساڑھے چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جس پر توانائی کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے پاس اس وقت خام تیل کی صرف 43 دن کی سپلائی موجود ہے۔ یہ سطح جولائی 1983 کے بعد سب سے کم سمجھی جا رہی ہے اور اسے امریکی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 10 جولائی تک امریکا کے کمرشل خام تیل کے ذخائر تقریباً 409.7 ملین بیرل ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ پانچ سال کی اوسط سے تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔ اسی طرح امریکا کے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو میں بھی مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ 18 جولائی تک یہ ذخائر گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گئے، جو اپریل 1983 کے بعد سب سے کم سطح قرار دی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکا کے مجموعی تیل ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتے ہیں۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں نے امریکی حکام اور سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی رسد مزید متاثر ہوئی یا خلیجی خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکا کو اپنے اسٹریٹیجک ذخائر کے تحفظ اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی مستقبل میں عالمی توانائی منڈی، ایندھن کی قیمتوں اور امریکی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل