Monday, July 20, 2026
 

فیفا ورلڈ کپ کی فاتح ہسپانوی ٹیم کا وطن واپسی پر شاندار استقبال کا شیڈول جاری

 



فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں ارجنٹائن کو اضافی وقت میں 1-0 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والی اسپینش ٹیم آج وطن واپس پہنچے گی جہاں ان کے استقبال کے لیے پورا ملک جشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ ???? ???????????????????? ???????????? ???????????????? Ferran Torres scores the first goal of the World Cup final in extra time (1-0). ???? @fifaworldcup pic.twitter.com/CU5mqwvk18 — FC Barcelona (@FCBarcelona) July 19, 2026 فیران ٹوریس کے 106ویں منٹ میں کیے گئے فیصلہ کن گول نے اسپین کو تاریخی فتح دلائی، جس کے بعد میڈرڈ کی سڑکیں سرخ اور زرد پرچموں سے سج گئی ہیں جبکہ لاکھوں مداح اپنے ہیروز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ حکومت نے فوری طور پر ٹیم کے استقبال کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق اسپینش ٹیم پیر کی دوپہر میڈرڈ کے ایڈولفو سواریز باراخاس ایئرپورٹ پہنچے گی۔ مختصر آرام کے بعد کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اور فیڈریشن حکام کی شاہی محل زارزویلا میں بادشاہ فلپ ششم اور شاہی خاندان سے خصوصی ملاقات ہوگی جہاں عالمی چیمپئنز کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی جائے گی۔ Lamine Yamal with the world in his hands at only 19 years old ???? pic.twitter.com/owXSbXyQom — ESPN (@espn) July 19, 2026 اس کے بعد ٹیم وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز کی دعوت پر مونکلوآ پیلس جائے گی جہاں حکومت کی جانب سے بھی عالمی فاتحین کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ دیا جائے گا۔ سرکاری تقریبات کے بعد اصل جشن کا آغاز ہوگا جب اسپینش ٹیم خصوصی اوپن ٹاپ بس میں ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ میڈرڈ کی مرکزی شاہراہوں سے گزرے گی۔ لاکھوں مداح سڑکوں کے دونوں اطراف اپنی قومی ٹیم کا استقبال کریں گے جبکہ جلوس کالے پرنسیسا، البرٹو آگویلیرا اور پلازا ڈی کولون سمیت شہر کے اہم مقامات سے ہوتا ہوا آگے بڑھے گا۔ حکام کے مطابق فتح کا یہ تاریخی جشن پلازا ڈی سیبیلس میں اپنے عروج پر پہنچے گا جہاں شاندار اسٹیج پر اسپین کے عالمی چیمپئن کھلاڑی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شائقین کے سامنے ورلڈ کپ ٹرافی بلند کریں گے۔ میڈرڈ میں ہونے والی یہ تقریب اسپین کی فٹبال تاریخ کی سب سے بڑی جشنی تقریبات میں شمار کی جا رہی ہے جہاں دنیا کے نئے فٹبال چیمپئنز کا استقبال یادگار انداز میں کیا جائے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل