Tuesday, July 21, 2026
 

سندھ پولیس کی اپنی جدید ڈیجیٹل فارنزک لیب کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے، آئی جی

 



آئی جی سندھ نے کہا ہے کہ جدید جرائم کا مقابلہ روایتی طریقوں سے ممکن نہیں، مؤثر اور معیاری تفتیش کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل شواہد اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات ناگزیر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سندھ پولیس کی "ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری" کے قیام سے متعلق تجاویز پر ایک اہم جائزہ اجلاس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، آئی ٹی، ٹی اینڈ ٹی، ٹریننگ اور اے آئی جیز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پروجیکٹ ڈائریکٹر آئی ٹی نے سندھ پولیس کی ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری کے قیام، اس کے دائرہ کار، تکنیکی ضروریات اور مجوزہ منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ دور میں 97 فیصد تفتیشی مقدمات میں موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر ڈیجیٹل آلات اہم شواہد کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر 90 فیصد فوجداری مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد پائے جاتے ہیں۔ تفتیشی عمل میں ڈیجیٹل شواہد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ترامیم اور سندھ پولیس کی اپنی جدید ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اجلاس میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ہدایت دی کہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں قائم ڈیجیٹل فارنزک لیب کمیٹی اپنی سفارشات اور تجاویز کو جلد از جلد حتمی شکل دے۔ انہوں نے کہا کہ لیبارٹری کے قیام سے متعلق اغراض و مقاصد، تنظیمی ڈھانچہ، افرادی قوت، انفراسٹرکچر، جدید آلات، سافٹ ویئر، تربیتی ضروریات، قانونی تقاضوں اور مالی تخمینے پر مشتمل ایک جامع اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کر کے منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ ہم سندھ پولیس کو ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور پیشہ ورانہ فورس میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں، اور ڈیجیٹل فارنزک لیبارٹری اس وژن کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل