Wednesday, July 22, 2026
 

بلغاریہ نے امریکی فضائیہ کے لیے اپنے فوجی اڈے کے دروازے کھول دیے، پارلیمنٹ سے منظوری

 



بلغاریہ کی پارلیمان نے امریکی فوج کو مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ فوجی کارروائیوں میں معاونت کے لیے ملک کے ایک فضائی اڈے کے استعمال کی اجازت دے دی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بلغاریہ کی پارلیمان میں پیش کی گئی حکومتی تجویز کے حق میں 136 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 13 ارکان نے مخالفت کی اور 2 ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ امریکا نے گزشتہ جمعہ بلغاریہ سے فوجی اڈے کے استعمال کرنے کی باضابطہ درخواست کی تھی جس پر حکومت نے یہ تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی جہاں رائے شماری میں اکثریتی ووٹ سے منظور کرلیا۔ تاہم معاہدے کے تحت امریکا کو بلغاریہ کے فضائی اڈے پر زیادہ سے زیادہ آٹھ KC-135 فضائی ایندھن بردار (ٹینکر) طیارے اور 250 فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ طیارے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی کارروائیوں کو ایندھن اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بعض ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی فوج کو سہولت دینے سے بلغاریہ براہِ راست ایران سے متعلق کسی ممکنہ جنگ یا فوجی تنازع کا حصہ بن سکتا ہے جس کے سفارتی اور سکیورٹی نتائج ملک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم حکومت نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تعاون نیٹو کے اتحادی ہونے کے ناطے دفاعی ذمہ داریوں کا حصہ ہے اور اس کا مقصد صرف اتحادی افواج کی لاجسٹک معاونت فراہم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور حالیہ دنوں میں مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین کے بعض رکن ممالک نے امریکا کو ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا ہے جس پر صدر ٹرمپ ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل