Wednesday, July 22, 2026
 

سعد رفیق کا بیان سیاسی دیوالیہ پن اور قومی یکجہتی کے خلاف ہے، شرجیل میمن

 



سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خواجہ سعد رفیق کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ، تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش اور قومی یکجہتی کے خلاف قرار دے دیا۔ لیگی رہنما کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق سیاسی دیوالیہ پن اور اخلاقی افلاس کا شکار ہوگئے ہیں، طنزیہ جملوں سے نہ تاریخ بدلی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوام کی رائے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے، جس کے زخم آج بھی پوری قوم کے دلوں میں تازہ ہیں، ایسے حساس قومی المیے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ دار شہید بھٹو کو قرار دینے سے پہلے خواجہ سعد رفیق کو حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھنی چاہئے تھی، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کو شہید بھٹو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور عوام کو سیاسی شعور دیا، ن لیگ آج بھی شہید بھٹو کے دیئے ہوئے ایٹم بم کے دھماکے کو اپنی کامیابی گنواتی ہے،  بھٹو خاندان خدمات پاکستانی تاریخ کا روشن باب ہیں، جنہیں سیاسی مخالفت کی بنیاد پر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو پوری دنیا میں جمہوریت، جرات اور عوامی حقوق کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہیں، بھٹو خاندان کو سیاسی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قومی تاریخ کو متنازع بنانا انتہائی افسوسناک طرزِ سیاست ہے۔ سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا یہ کہنا کہ "باسی، بوسیدہ، زنگ آلود، مڑے تڑے تیر شیر کا شکار نہیں کر سکتے" دراصل مسلم لیگ (ن) کو چاہیے کہ وہ ماضی کے تلخ قومی سانحات کو سیاسی ہتھیار بنانے  سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نفرت انگیز بیانیوں اور تاریخی تقسیم کی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت اور مستقبل کی سیاست کی ضرورت ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل