Loading
تہران: ایران نے ایک بار پھر امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سرزمین، بنیادی ڈھانچے یا قومی مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور، فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران یا اس کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘ ان کے مطابق اگر کسی حملے میں کسی بھی ملک یا فریق نے امریکا کی کسی بھی شکل میں معاونت کی تو اسے بھی جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی اور امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے چند روز قبل امریکی سینٹکام کو ایران کے خلاف کارروائی سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں، جبکہ بعد ازاں انہوں نے اپنے سابقہ بیان کو دوبارہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ایران کو مزید خبردار کیا۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کے پلوں، بجلی گھروں یا دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو ایران بھی خطے میں موجود امریکی مفادات، توانائی کے مراکز، پلوں اور بنیادی ڈھانچے پر جوابی کارروائی کرے گا۔
Our defense doctrine is clear: eye for an eye.
Any aggression against Iran, including our infrastructure, will compel a powerful and decisive response.
Those who contribute to such aggression, whatever the kind of support, will also be considered as legitimate targets.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 22, 2026
سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سخت بیانات کی جنگ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود کسی بھی غلط اندازے یا فوجی کارروائی کے وسیع علاقائی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل