Loading
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد اور سخت سزا دی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جو لوگ طلبہ کے مستقبل سے کھیلیں گے انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
یہ پرچہ لیک تنازعے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے جس کے بعد ملک بھر میں جاری احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے۔ طلبہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ احتجاج کے اتنے دن وہ خاموش کیوں تھے اور ردعمل دینے میں آخر اتنا وقت کیوں لگا؟
Nothing is more important than the welfare and future of our youth!
We have decided to set up fast-track courts to ensure swift and stringent punishment for those involved in paper leaks. Have directed the concerned authorities and officials to take all necessary steps in this…
— Narendra Modi (@narendramodi) July 23, 2026
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آڑے ہاتھوں لے لیا:
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت خود ملک کے تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کی ذمہ دار ہے۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان آپ نے پہنچایا۔ آپ نے تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا اور ذمہ دار افراد کا تحفظ کیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تین مطالبات ہیں۔ ایک یہ کہ دھرمندرہ پرادھان کو برطرف کیا جائے، دوسرا یہ کہ ان سے معافی مانگی جائے، اور تیسرا یہ کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے ان پر حملہ کیا۔
You are the one who has harmed the future of our youth the most.
You allowed and encouraged the total capture and destruction of our education system - and protected every person responsible for it.
The students’ demands are clear:
1. Sack Dharmendra Pradhan.
2. Apologise to… https://t.co/0MK4wPMNiK
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) July 23, 2026
واضح رہے کہ سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے سلسلے میں جاری ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد اس معاملے پر ملک بھر میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل