Loading
ساحل نے جنوری تا جون 2026 کے دوران صنفی بنیاد پر تشدد سے متعلق اپنی ششماہی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق 2024 سے ساحل صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور کمیونٹیز کو محفوظ، منصفانہ اور زیادہ بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
یہ رپورٹ قومی اور علاقائی اخبارات سے جمع کی گئی معلومات پر مبنی ہے، جن میں چاروں صوبوں کے علاوہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT)، آزاد جموں و کشمیر (AJK) اور گلگت بلتستان (GB) شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3 ہزار 172 کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں 18 کیسز ٹرانس جینڈر افراد سے متعلق تھے۔
ان کیسز میں 644 قتل، 514 تشدد، 462 اغوا، 363 خودکشیاں، 280 ریپ، 175 زخمی، 132 غیرت کے نام پر قتل اور 21 دیگر جرائم، جن میں ہراسانی، اجتماعی زیادتی اور فحاشی شامل ہیں، ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 334 کیسز 21 سے 30 سال، 306 کیسز 11 سے 20 سال اور 120 کیسز 31 سے 40 سال عمر کے افراد سے متعلق تھے، جبکہ 71 فیصد کیسز میں متاثرہ افراد کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مجموعی کیسز میں 27 فیصد میں ملزم متاثرہ کا جاننے والا، 24 فیصد میں اجنبی، 13 فیصد میں شوہر تھا، جبکہ 20 فیصد مقدمات میں ملزم کی شناخت نہیں ہو سکی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے 54 فیصد واقعات متاثرہ کے اپنے گھر میں اور 12 فیصد ملزم کے گھر میں پیش آئے، جو سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے مقامات تھے۔ صوبہ وار اعداد و شمار کے مطابق 74 فیصد کیسز پنجاب، 17 فیصد سندھ، 6 فیصد خیبرپختونخوا جبکہ 3 فیصد کیسز بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 76 فیصد مقدمات پولیس میں درج کیے گئے، 23 فیصد مقدمات میں رجسٹریشن کی صورتحال کا ذکر نہیں تھا، جبکہ ایک فیصد مقدمات پولیس میں درج نہیں کیے گئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل