Loading
پیپلزپارٹی نے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت نہ ملنے پر گورنر ہاؤس ہاؤس میں پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مینار پاکستان جلسے کی اجازت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی نے آج گورنر ہاؤس میں جلسے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے پرنسپل سیکریٹری کی زبانی اجازت کی یقین دہانی کے بعد ہم دو روز سے مینار پاکستان پر جلسے کی تیار کررہے تھے اور اسٹیج بھی تیار کرلیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ صبح ہمیں کہا گیا کہ آپ جلسہ نہیں کرسکتے اور اس کی اجازت نہیں ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ہزاروں جیالے یہاں موجود تھے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے پارٹی قیادت نے ہدایت دی ہے کہ مینار پاکستان سے جلسے کا مقام تبدیل کر دیں اور گورنر ہاؤس میں ورکرز کنونشن کریں۔
انہوں نے کاہ کہ جون کی 8 تاریخ کو درخواست دی تھی اس کے باوجود بھی اجازت نہیں دی گئی، ہم نے جہاں جہاں جلسے کے بینرز لگائے آدھے گھنٹے میں اتار لیے گئے۔
اس سے قبل مینار پاکستان پر جلسے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور حکومت کے درمیان رابطہ ہوا جس پر دونوں جماعتوں نے مذاکرات کیے اور معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس سے قبل پیپلزپارٹی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے لاہور کے ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری احمد گھمن اور آفس سیکریٹری عاطف کھوکھر گرفتار کرلیا ہے تاہم پولیس نے اس دعوے کا انکار کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل