Loading
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور صوبے میں پائیدار امن ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ریاست کی مجموعی پالیسی کا اظہار ہے۔
اس بیان میں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن عزم جھلکتا ہے تو دوسری طرف بلوچستان کے عوام کو امن کے قیام کا سب سے اہم شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کی ہے اور آج بھی اکثریت امن، تعلیم، روزگار اور ترقی کی خواہاں ہے۔ اسی لیے ریاست کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ عوام کو قومی ترقی کے حقیقی شریک کے طور پر بااختیار بنایا جائے۔
بلوچستان محض پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ نہیں بلکہ جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، ساحلی امکانات، سرحدی محل وقوع، تہذیبی تنوع اور قومی سلامتی کے تناظر میں ریاست کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صوبے میں پیش آنے والا ہر واقعہ محض ایک مقامی انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات قومی سیاست، داخلی سلامتی، معیشت، سفارت کاری اور ریاستی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے واقعات، جن میں اعلیٰ عسکری قیادت کا بلوچستان کے بارے میں دوٹوک مؤقف، مستونگ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی اور اسی ضلع میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پر مہلک حملہ شامل ہیں، اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتے ہیں کہ بلوچستان اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ریاستی رٹ، قانون کی بالادستی، عوامی اعتماد، ترقیاتی حکمت عملی اور قومی یکجہتی کو بیک وقت مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
مستونگ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہونے والی کارروائی، جس میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور گرفتار کیے گئے جب کہ مبینہ طور پر خودکش حملہ آور بھی پکڑے گئے، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک اب بھی صوبے کے مختلف حصوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی کارروائیاں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ وہ بڑے سانحات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید انسداد دہشت گردی کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ ردعمل کے بجائے پیشگی معلومات، موثر نگرانی، مربوط ادارہ جاتی تعاون اور تیز رفتار کارروائی کے ذریعے خطرات کا سدباب کیا جائے، اگر خفیہ معلومات کو بروقت عملی کارروائی میں تبدیل کیا جائے تو نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہوتا ہے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچے، مالی ذرائع، رابطہ کاری اور سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔اس کارروائی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کی نوعیت مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔
سہولت کاروں کے ساتھ خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اطلاعات اس رجحان کی عکاسی کرتی ہیں کہ شدت پسند عناصر روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئی حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں صرف سرحدی نگرانی یا عسکری آپریشن کافی نہیں بلکہ سماجی نگرانی، مقامی سطح پر معلومات کے تبادلے، تعلیمی اداروں میں شعور کی بیداری، مذہبی و سماجی قیادت کے مثبت کردار اور جدید تکنیکی ذرائع سے نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انتہاپسندانہ نظریات کے پھیلاؤ کو ابتدا ہی میں روکا جا سکے۔
دوسری جانب مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ پر حملہ اور ان کی شہادت ایک انتہائی تشویشناک واقعہ ہے۔ کسی جج کو نشانہ بنانا دراصل انصاف کے پورے نظام کو خوف زدہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ عدالتیں ریاستی ڈھانچے کا وہ ستون ہیں جہاں عام شہری کو قانون کے ذریعے تحفظ اور انصاف کی امید وابستہ ہوتی ہے، اگر انصاف فراہم کرنے والے خود عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں تو اس کے اثرات صرف عدلیہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں قانون کی عملداری پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو محض ایک دہشت گرد حملہ قرار دینا کافی نہیں بلکہ اسے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔وکلا برادری کی جانب سے احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ اس بات کا اظہار ہے کہ انصاف سے وابستہ طبقہ بھی بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں شدید تشویش رکھتا ہے۔ اس احتجاج کا مقصد صرف افسوس کا اظہار نہیں بلکہ ریاست کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ عدالتی نظام کی موثر حفاظت قومی سلامتی کے ایجنڈے کا مستقل حصہ ہونی چاہیے۔ ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیشی افسران اور گواہوں کا تحفظ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں انصاف کا عمل اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب اس سے وابستہ تمام افراد خود کو محفوظ محسوس کریں۔
بلوچستان میں دہشت گردی کا مسئلہ محض داخلی نوعیت کا نہیں۔ سرحدی جغرافیہ، غیر قانونی نقل و حرکت، اسمگلنگ، منظم جرائم، علاقائی کشیدگی اور بیرونی مداخلت جیسے عوامل اس پیچیدہ صورت حال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ریاستی ادارے بارہا اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ بعض تخریبی عناصر کو سرحد پار سے معاونت اور سہولت میسر آتی ہے، اگرچہ ایسے معاملات میں شواہد کی بنیاد پر سفارتی سطح پر موثر پیروی ناگزیر ہے، تاہم داخلی سطح پر سرحدی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس کے تبادلے اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ داخلی اور خارجی حکمت عملی میں مکمل ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو ہر سطح پر محدود کیا جا سکے۔بلوچستان کے نوجوان اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، اگر انھیں معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارت، تحقیق، کاروباری معاونت اور روزگار کے مواقع میسر آئیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ قومی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بے روزگاری اور محدود مواقع نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتے ہیں، جب کہ امید، ہنر اور باعزت روزگار انھیں مثبت قومی کردار کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اس لیے تعلیمی اداروں، فنی تربیتی مراکز اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایسی جامع حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے جو بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑ دے۔ بلوچستان میں سیاسی مکالمہ بھی امن کے قیام کا ایک اہم ستون ہے۔ جمہوری اداروں کا استحکام، آئینی عملداری، سیاسی جماعتوں کی ذمے دارانہ سیاست اور عوامی نمائندوں کا موثر کردار ایسے عناصر ہیں جو ریاست اور معاشرے کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا فطری حصہ ہے، لیکن اسے تشدد، نفرت یا قانون شکنی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ قومی وحدت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے تمام طبقات کو اپنی رائے کے اظہار اور مسائل کے حل کے مساوی مواقع میسر ہوں۔
اطلاعاتی محاذ بھی موجودہ حالات میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں خوف، افواہوں، گمراہ کن معلومات اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ذمے دار صحافت، مستند معلومات کی بروقت فراہمی، شفاف ابلاغ اور حقائق پر مبنی قومی بیانیہ ناگزیر ہے۔ میڈیا، جامعات، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو بھی ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو کمزوری نہ سمجھا جائے بلکہ حقائق کی بنیاد پر تعمیری مکالمہ فروغ پائے۔بلوچستان کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام ریاستی ادارے، سیاسی قیادت، عدلیہ، سول انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مقامی سماجی قوتیں ایک جامع قومی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تسلسل، عدالتی نظام کا تحفظ، عوامی اعتماد کی بحالی، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تکمیل، نوجوانوں کی شمولیت، مقامی حکومتوں کو فعال بنانا، احتساب کے مؤثر نظام کو مضبوط کرنا اور قانون کی بلاامتیاز عملداری ایسے ستون ہیں جن پر دیرپا امن کی مضبوط عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ بلوچستان میں امن صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مجموعی مستقبل کا سوال ہے، اگر یہ خطہ محفوظ، خوشحال اور مستحکم ہوگا تو قومی معیشت، علاقائی تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بین الاقوامی روابط اور داخلی یکجہتی سب کو تقویت ملے گی۔ اس کے برعکس اگر دہشت گردی، خوف اور عدم استحکام کو جگہ ملتی رہی تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کو موثر حکمرانی، آئینی بالادستی، سماجی انصاف، سیاسی ہم آہنگی، معاشی شمولیت اور عوامی اعتماد کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ یہی جامع حکمت عملی بلوچستان کو پائیدار امن، مضبوط اداروں، متوازن ترقی اور قومی یکجہتی کی نئی منزل تک لے جا سکتی ہے، اور یہی پاکستان کے محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی حقیقی ضمانت بھی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل