Friday, July 24, 2026
 

آہ… امیر العظیم چلے گئے؟

 



جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ میرے لیے ان کی موت کی خبر ناقابل یقین ہی ہے۔ میرا اور امیر العظیم کا تعلق کوئی پیشہ ورانہ نہیں تھا۔ وہ میرے استاد، بڑے بھائی، مشکل وقت میں کام آنے والے، میرے ہر دکھ درد میں میرا ساتھ دینے والے اور ہر موقع پر میری رہنمائی کرنے والے ایک قابل اعتماد ساتھی تھے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں مشکل میں ہوں اور امیر العظیم میرے ساتھ نہ ہوں۔ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ۔ لوگوں کی بے لوث مدد کرنا امیر العظیم کی زندگی کا وہ مشن تھا جس کا وہ کبھی ذکر بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کی موت میرے لیے ہی نہیں بہت سے دوستوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے جنازے میں دوستوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ میں نے کئی انجانی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ لوگ ایسے رو رہے تھے جیسے ان کا سب کچھ لٹ گیا ہو۔ صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی جنازے میں شریک تھی، سیاستدان بھی تھے، تمام مکاتب فکر کے لوگ تھے لیکن کئی ایسے لوگ بھی تھے جن کو ہم نہیں جانتے تھے۔ لیکن وہ وہاں شدید غم میں کھڑے تھے۔ان کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ ان کے غم کی شدت کیا ہے۔ امیر العظیم صاحب کا اور میرا تعارف 1992میں ہوا۔ میں نے صحافت شروع کی۔ ایک انٹرنی رپورٹر تھا۔ میرے چیف ایڈیٹر نے مجھ سے پوچھا کونسی بیٹ کرنا چاہتے ہو۔ میں نے کہا سیاسی بیٹ کرنا چاہوں گا۔ انھوں نے میری طرف دیکھا اور کہا اچھا سیدھے سیاسی بیٹ ہی کرو گے۔ میں نے کہا جی۔ انھوں نے مجھے جماعت اسلامی کی بیٹ دے دی۔ یہ اخبار ابھی نکلا نہیں تھا۔ اسٹاف بھرتی ہوگیا تھا۔ روز ڈمی چھپتی تھی۔ ابھی باقاعدہ اشاعت شروع نہیں ہوئی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میری پہلی اسائنمنٹ امیرجماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے انٹرویو کی لگائی گئی۔ رپورٹنگ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ دو تین دن منصورہ کے چکر لگائے لیکن قاضی حیسن احمد تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ملا۔ میں اس وقت علامہ اقبال ٹاؤن کامران بلاک میں رہائش پذیر تھا۔ محلے کے دو دوستوں کو بتایا کہ مشکل میں ہوں۔ دفتر سے پہلی اسائنمنٹ ملی ہے کہ قاضی حسین احمد کا انٹرویو کرنا ہے اور وہ مل نہیں رہے، ٹائم نہیں دے رہے، دفتر سے روز پوچھتے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم ہمارے دوست نعمان کے بہنوئی ہیں۔ اکثر اپنے سسرال کامران بلاک میں ہی آتے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہم دوست نعمان کے پاس گئے۔ ہم سب نے اسے زور دیا کہ ہمیں امیر العظیم صاحب سے نہ صرف ملوایا جائے بلکہ ان کو سفارش بھی کی جائے ۔ اس نے کہا اب جس دن وہ آئیں گے وہ ہمیں بتا دے گا۔ اس طرح دو تین بعد ہی نعمان کے گھر میں امیر العظیم صاحب سے ملاقات ہوگئی۔ وہ نہایت ملنسار تھے، بہت محبت سے پیش آئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ انھوں نے کہا جس دن اخبار کی اشاعت ہوگی۔ اس دن میں آپ کا پہلا انٹرویو کروا دوں گا۔ میں نے کہا تب تک میری نوکری ہی نہیں ہوگی۔ سوال آج کی اسائنمنٹ کا ہے۔ وہ مسکرائے اور انھوں نے حامی بھر لی۔ اگلے دن انھوں نے میرے رابطہ کرنے پر بتایا کہ آپ اپنے چیف ایڈیٹر کو بتا دیں کہ قاضی حسین احمد آپ کو انٹرویو دینے آپ کے دفتر آئیں گے۔ اور پھر امیر العظیم انھیں لے کر آئے۔ شائد وہی میری صحافت کی پہلی سیڑھی تھی۔ اور پھر میں ایک سیاسی رپورٹر بن گیا اور آج تک ہوں۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وقت کتنا گزر گیا۔ امیر العظیم چلے گئے۔ صحافت کی پہلی سیڑھی پر ہاتھ پکڑ کر پاؤں رکھوانے والا چلا گیا۔ امیر العظیم ایک بے لوث شخص تھے۔ انھیں جماعت اسلامی میں بھی عہدے کا کوئی لالچ نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں نے جماعت اسلامی میں مرحوم سید منور حسن کے ساتھ بھی ایک اچھا تعلق قائم کر لیا تھا۔ ان سے ناشتے پر بہت ملاقاتیں رہتی تھیں۔ وہ قاضی حسین احمد کے ساتھ سیکریٹری جنرل تھے۔ جب قاضی حسین احمد کے بعد سید منور حسین جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوئے تو انھوں نے امیر العظیم صاحب کو سیکریٹری جنرل نامزد کیا۔امیر العظیم نے فوری طور پر مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کھڑے ہو کر معذرت کر لی۔ سب حیران تھے ۔ جماعت اسلامی میں سیکریٹری جنرل کا عہدہ سب سے مضبوط ہوتاہے۔ تب تک روایت بھی یہی تھی کہ سیکریٹری جنرل ہی اگلا امیر ہوتا تھا۔ لیکن سب حیران تھے۔ میں نے ایک دن پوچھا کہ آپ نے کیوں معذرت کر لی۔ کہنے لگے میں ابھی خود کو اس عہدے کا اہل نہیں سمجھتا۔ مجھے ابھی اور تیاری کرنی ہے۔ سید منور حسن کو ان کی معذرت کا بہت دکھ تھا لیکن امیر العظیم مطمئن تھے ۔ وہ جماعت اسلامی کا کام کرکے ایک تسکین محسوس کرتے تھے۔ وہ مرکزی سیکریٹری اطلاعات سے امیر لاہور بنا دئے گئے۔ وہ خوش تھے۔ پھر امیر وسطیٰ پنجاب بنا دئے گئے۔ وہ خوش تھے۔ پھر مرکزی سیکریٹری اطلاعات بنا دئے گئے۔ وہ خوش تھے۔ اور 2019ء میں سراج الحق صاحب نے سیکریٹری جنرل نامزدکیا تو جماعت اسلامی کے سینئر دوستوں کے دباؤ میں انھوں نے یہ عہدہ قبول کر لیا۔ اور تب سے وہ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے عہدہ پر فائز تھے۔ زمانہ طالبعلمی میں انھوں نے جیل بھی کاٹی اور جیل سے اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ جب ملتے تو جیل کے کافی قصے سناتے تھے۔ جیل کے کئی دوستوں سے ان کا اب بھی تعلق تھا۔ آج امیر العظیم ہم میں نہیں ہیں۔ لیکن یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ وہ دل کے امیر اور کردار کے ایک عظیم انسان تھے۔ اللہ میاں نے ان کے نام کی دونوں خصوصیات ان کو کھل کر دی تھیں۔ کسی کی خوشی اور غمی نہیں چھوڑتے تھے۔ بڑے بڑا کام بھی چھوڑ کر جنازوں میں شرکت کرتے تھے۔ کسی کی مشکل سن کر مدد کو پہنچ جاتے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ 2002ء کے انتخابات میں قاضی حسین احمد نے انھیں پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ایڈجسٹمنٹ میں سیٹ لے کر دی۔ لیکن وہ خوش نہیں تھے۔ وہ مجھے کہتے تھے کہ یہ سیٹ مجھے نہیں لینی چاہیے تھے۔ زعیم قادری کو ہی لڑنا چاہیے تھا۔ آج زعیم قادری بھی دنیا میں نہیں۔ لیکن امیر العظیم سیٹوں اور عہدوں کا لالچی نہیں تھا۔ اس کو دولت کا بھی لالچ نہیں تھا۔ وہ اپنی ذات سے بے نیاز تھے۔ ان کی موت جماعت اسلامی کے لیے بھی ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ شائد جماعت اسلامی کو بھی نیا امیر العظیم نہیں مل سکے گا۔ ان کا کوئی متبادل نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل