Sunday, July 26, 2026
 

بھارتی جین زی تحریک، مودی حکومت کیلئے بڑا چیلنج

 



سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور دنیا میں نوجوانوں کا عوامی تحریکوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کی روایت تو پرانی ہے لیکن گزشتہ دہائیوں میں جنوبی ایشیا میں جین۔ ذی کی تحریکوں نے جس طرح نیپال سری لنکا بنگلہ دیش میں حکومتوں کی تبدیلی میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے یہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک پیغام ہے کہ اب نوجوان اپنے ممالک میں ناانصافی بیڈ گورننس اور ظلم و استحصال پر مبنی نظام کو برداشت کرنے پر تیار نہیں اور وہ اس میں تبدیلی لانے کیلئے کسی بھی حد جا سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے اس نوجوان کی وائرل ویڈیو آج بھی ہمارے ذہنوں میں موجود ہے جو سینہ تان کر پولیس والوں کو اپنے اوپر فائر کرنے کی دعوت دے رہا ہے اور پھر وہ پولیس فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوکر گر پڑتا ہے اور اسکے ساتھی آکر اسے سنبھالتے ہیں۔ اسی طرح کے مناظر 20-21 جولائی 2026 کو انڈین دارلحکومت دہلی میں دیکھنے میں آئے جہاں ایک نوجوان احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے لاٹھیاں کھاتے ہوئے بھاگنے کے بجائے پولیس والوں کو دعوت دے رہا ہے کہ اسے اور مارو اور بالآخر پولیس والے اس کے عزم کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ انڈیا کا دارالحکومت دہلی کئی دنوں سے احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ گذشتہ روز دہلی کے قلب میں واقع جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شامل ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے ایک روز بعد بھی منگل کو ہزاروں افراد ایک بار پھر دہلی میں جمع ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی اور امتحانی نظام سے متعلق اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھیں گے، جبکہ گذشتہ روز ہونے والی پولیس کارروائی نے اس تحریک کے لیے حمایت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مبینہ بے جا طاقت کے استعال کی مذمت کی جا رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں پرامن احتجاج کو دبایا جا رہا ہے اور مظاہرین کے خلاف نامناسب طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ کے چیئرمین آکار پٹیل کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پرامن مظاہرین کے خلاف غیر مناسب طاقت کا استعمال کیا اور انھیں پارلیمنٹ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام نے میٹرو سروسز اور موبائل انٹرنیٹ بند کر کے پرامن اجتماع کے حق پر مزید قدغنیں لگائیں۔کانگریس کے رہنما اور انڈین پارلیمنٹ میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ’کل بچوں کے ساتھ جو بربریت کی گئی وہ انتہائی شرمناک ہے۔‘ یہ سوال اہم ہے کہ یہ احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟ دراصل یہ احتجاج داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف گذشتہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور سٹوڈنٹس وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس احتجاج میں شمالی انڈیا کے لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی شمولیت نے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ ان کے علاوہ احتجاجی بھوک ہڑتال کرنے والے جن تین طلبا کی بھوک ہڑتال ختم کرائی گئی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اگرچہ اس کی نوعیت مختلف ہوگی۔ ان تینوں طلبہ و طالبات کا تعلق آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) سے ہے۔ طلبا نے اپنی بھوک ہڑتال اسی دن شروع کی تھی جس دن سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ 20 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو زبردستی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں پی ایچ ڈی کی طالبہ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا نے کہا کہ لاکھوں طلبہ اور نوجوانوں کے ہجوم کو دیکھ کر ہمیں بہت خوشی ہوئی اب تعلیم کے مسئلے پر اس قدر مضبوط عوامی بیداری اور تحریک کا خاص طورپر نوٹس لیا جانا چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ ان کا لاٹھی چارج صرف ہم پر نہیں بلکہ ان کے اپنے بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے۔ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس تحریک کا ساتھ دیں کیونکہ بھوک ہڑتال کے خاتمے کے بعد یہ جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ دوسری جانب طلبہ یونین آئیسا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ طلبہ رہنماؤں نے انتہائی بہادری کے ساتھ یہ جدوجہد کی ہے۔ آئیسا سے تعلق رکھنے والے جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر این سائی بالاجی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایک ماہ طویل مہم چلائیں گے، جس میں جنتر منتر پر پیش کیے گئے مطالبات کو دہرایا جائے گا۔ پہلا مطالبہ سونم وانگچک کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کا ہے اور یہ یقین دہانی بھی مانگی گئی ہے کہ احتجاج کے حوالے سے ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے۔ دوسرا مطالبہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ یا برخاستگی کے متعلق ہے۔ جبکہ تیسرا مطالبہ میڈیکل میں داخلے کے امتحان ’نیٹ‘ 2026 کے پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبا کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دینے کا ہے۔ نیہا بورا دہلی کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اسسٹنٹ پروفیسر اور احتجاج پر مشہور کتاب ’باڈی آن دی بیریکیڈز‘ کے مصنف برہم پرکاش کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی ایم ایل سے تعلق رکھنے والی طلبا کی جماعت آئیسا کی قومی صدر بھی ہیں نیہا نے کہا کہ ’آج نیشنل ایجوکیشن پالیسی متعارف کرا کے سرکاری تعلیمی اداروں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ نئی تعلیمی پالیسی سنہ 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی جس میں حکومت کی جوابدہی کو ختم کر دیا گیا اور یہ ایک ایسے ماحول کی آبیاری کرتا ہے جہاں بدعنوانی اور پرچے لیک ہوتے ہیں۔ تحریک کے ایک اور راہنما منیش کمار اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اتر پردیش آئیسا یونٹ کے صدر بھی ہیں۔ منیش کمار نے کہا کہ ’متعدد مقامات پر مختلف امتحانات کے پرچے لیک ہوئے۔ سب سے بڑا معاملہ میڈیکل میں داخلے کے امتحانات ’نیٹ‘ کا تھا جس کی وجہ سے ڈیڑھ درجن سے زیادہ بچوں نے خودکشی کر لی اور لاکھوں گھرانے اس سے متاثر ہوئے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیے گئے۔‘ منیش نے مزید کہا کہ ہماری یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی فیس 500 روپے تھی جو اب بڑھا کر 20 ہزار کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹیوں کے فنڈز میں کٹوتی کی جا رہی۔ انھوں نے کہا: ’ہم لوگ دھرنے پر بیٹھے ہی تھے کہ مدھیہ پردیش میں پیپر لیک ہو گیا۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ لیکس میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ایک اور راہنما آمین امیتوج کا تعلق بھی طلبہ تنظیم آئیسا سے ہے۔ وہ دہلی کی امبیڈکر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ وہ انڈین پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ امبیڈکر یونیورسٹی میں ہی ہندی زبان و ادب کے پروفیسر گوپال پردھان نے کہا کہ وہ ’جین زی کی سمجھداری‘ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’جس طرح سے ہم لوگوں نے کسی احتجاج کی امید چھوڑ دی تھی انھوں نے جس بڑے پیمانے پر کامیابی کے ساتھ احتجاج کیا ہے اور جو سیاسی بصیرت دکھائی ہے اور جس طرح سے انتہائی حبس کے ماحول میں بھوک ہڑتال جاری رکھی ہے اس نے ہمیں امید فراہم کی ہے۔‘ دوسری جانب جے این یو میں استاد آصف زہری نے کہا کہ طلبہ کا وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں وزیروں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے مطابق مطالبہ 'پردھان سیوک' کے استعفے کا ہونا چاہیے۔انھوں نے موجودہ صورت حال کے پیش نظر این ٹی اے یعنی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی جو امتحانات کرواتی ہے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور تعلیم کو 'ڈی سینٹرلائز اور ڈی پرائیوٹائز' کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔  کاکروچ جنتاپارٹی CJP بھارت میں شروع ہونے والی ایک منفرد اور طنزیہ سیاسی تحریک ہے۔ یہ تحریک 15 مئی 2026ء کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اس متنازع بیان کے ردعمل میں سامنے آئی، جس میں انھوں نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور Parasite of society the قرار دیا تھا۔ مئی 2026 میں بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے عدالتی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے ایک مخصوص بے روزگار طبقے کو کاکروچ (لال بیگ) سے تشبیہ دی۔ اس بیان کے بعد نوجوانوں کی توہین کا احساس جاگا اور ملک بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اس توہین کو ایک طاقتور اور طنزیہ سیاسی مہم میں بدل دیا اور 16 مئی 2026ء کو کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے جان بوجھ کر اس کا نام ایسا رکھا تاکہ حکومت کو یاد دلایا جا سکے کہ جن نوجوانوں کو وہ کیڑا سمجھ رہے ہیں، ان کی طاقت کیا ہے۔ یہ مہم جنگل کی آگ کی طرح سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ چند ہی دنوں میں اس کے 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد رجسٹریشن اور 2 کروڑ سے زائد فالورز ہو گئے۔سوشل میڈیا سے نکل کر یہ تحریک عملی احتجاج میں بھی داخل ہو گئی۔ دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں اور طلبہ نے کئی روز تک بھوک ہڑتال کی۔ احتجاج میں شریک نوجوان لال بیگ کے لباس پہن کر مظاہروں میں شامل ہوتے تھے۔ یہ تحریک طلبہ کے مسائل سے نکل کر وسیع تر اقتصادی اور معاشرتی مسائل، جیسے کہ بے روزگاری اور حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں تک پھیل گئی ہے۔ سونم وانگچوک جیسے سماجی رہنماؤں نے بھی اس کی سرپرستی کا اعلان کیا۔ ملک میں بے روزگاری اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ تحریک نوجوان نسل کی جانب سے حکمرانوں کی غفلت اور تکبر کے خلاف ایک انوکھا اور یادگار احتجاج ثابت ہوئی ہے۔ یہ تحریک اب مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف ایک چارج شیٹ بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔  بیڈ گورننس کے خلاف بیداری کی لہر حکومتوں کو یاد دہانی ہے کہ وہ اپنی گورننس درست کرلیں ورنہ انہیں جلد یا بدیر اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل