Loading
ماضی میں قائم ہونے والے تحقیقاتی کمیشنز کی طرحکیا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ بھی جاری نہیں ہوگی؟ سندھ کی حکومت کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہ یہ رپورٹ جاری کرنا چاہتی ہے اور نہ اب سانحہ کے ذمے دار کسی افسر کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے اعلیٰ افسران کے موقف کی تجدید کرتے ہوئے سانحہ گل پلازہ عدالتی رپورٹ کی اشاعت کو روک دیا۔ میرے خیال میںکمیشن کو آئین کے آرٹیکل انیس اے کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے وکیل طارق منصور کے ذریعے کمیشن سے یہ استدعا کی تھی کہ حکومت سندھ کو اس رپورٹ کے اجراء کے احکامات جاری کیے جائیں۔ کمیشن نے اس معاملے کی کئی بار سماعت کی۔ حکومت سندھ کے مختلف محکموں نے اس رپورٹ کے اجراء کو روکنے کے لیے مختلف نوعیت کے دلائل پیش کیے۔ محکمہ داخلہ کا موقف تھا کہ یہ رپورٹ چیف سیکریٹری کے پاس ہے، وہی حتمی فیصلہ کریں گے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن کے معزز اراکین کا یہ استدلال ہے کہ گل پلازہ سانحہ کی ابھی تحقیقات جاری ہے لہذا اس مرحلے پر یہ رپورٹ کا اجراء مناسب نہیں ہے۔
گل پلازہ سانحہ کے مقدمات کا چالان مقامی عدالت میں پیش ہوچکا ہے۔چالان میں گل پلازہ یونین کے عہدیداروں کے علاوہ ایک دکاندار اور اس کے 11 سالہ بچے کو نامزد کیا گیا تھا۔ عدالت نے ان ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی عرضداشتیں قبول کرلی تھیں۔ گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں 17 جنوری 2026ء کو خوفناک آگ لگی تھی۔ جس کے نتیجے میں 80 افراد جاں بحق اور 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حکومت سندھ نے فوری طور پر اس سانحہ کے بارے میں تحقیقات کی ضرور ت کو محسوس نہیں کیا تھا مگر جب ذرائع ابلاغ پر شور اٹھاتو چند عقل مند افسروں کی تجویز پر کچھ وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کردی گئی۔
اس کمیٹی کا سربراہ وزیر بلدیات کو بنایا گیا۔ اس پر صوبائی اسمبلی میں شور و غوغا ہوا تو صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس ظفر راجپوت سے گزارش کی کہ ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کو اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے نامزد کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے کچھ وضاحت مانگی۔ حکومت سندھ نے اس کا جواب جمع کرایا، یوں جسٹس فیصل آغا کو اس ٹریبونل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ جسٹس فیصل آغا نے عرق ریزی سے اس سانحہ کی تحقیقات کی۔
انھوں نے حکومت سندھ کے مختلف محکموں کے افسروں ، کراچی کے میئر، پولیس افسروں، فائر بریگیڈ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران اور سول ڈیفنس کے عملے کے علاوہ حادثہ کا شکار ہونے والے افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے بیانات بھی قلم بند کیے۔ جسٹس فیصل آغا نے گل پلازہ کی تباہ حال عمارت کا معائنہ کیا اور اس عمارت میں داخل ہو کر مخدوش حصوں کا خود مشاہدہ کیا۔ جسٹس فیصل آغا نے تحقیقاتی رپورٹ حکومت سندھ کو پیش کر دی۔ کمیشن کے رجسٹرار اس رپورٹ کے اجراء کے مجاز نہیں لہٰذا حکومت سندھ کو یہ رپورٹ جاری کرنی تھی، البتہ اس کمیشن کی کارروائی کی اشاعت پر کوئی قدغن نہیں تھی۔
کمیشن کے سامنے گواہوں نے جو انکشافات کیے، ان سے سرکاری اداروں کی نااہلی اور عوامی معاملات سے عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا تھا۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ گل پلازہ کی عمارت کا نقشہ ایک منزلہ منظور ہوا تھا مگر پھر ایک اور منزل تعمیر کی گئی۔ منظورشدہ نقشے سے ہٹ کر 100 سے زیادہ دکانیں تعمیر کی گئیں۔ تہہ خانہ میں بھی دکانیں بنائی گئیں۔ گل پلازہ میں جب زیادہ خریدار آجاتے تھے تو پھر چلنے پھرنے کی جگہ نہیں رہتی تھی۔ دکانداروں نے اپنا سامان ہر طرف پھیلایا ہوا تھا۔ سانحے کے وقت پلازہ کے بیشتر دروازے اور کھڑکیاںبند تھیں۔عمارت میں ہوا کی نکاسی کا کوئی انتظام ہی نہیں تھا۔
عمارت میں ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کا کوئی متبادل نظام نہیں تھا۔ پوری عمارت میں آگ بجھانے کا کوئی جدید نظام ہی نہیں تھا۔ گواہوں نے یہ بھی بتایا کہ بجلی کی وائرنگ ناقص تھی،جدید خودکار بریکر نہیں لگے ہوئے تھے۔ یہ بریکر بجلی کے شارٹ سرکٹ میں فوری طور پر بجلی کی سپلائی منقطع کردیتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ عمارت میں شارٹ سرکٹ کی بناء پر آگ لگی جو پھیلتی چلی گئی۔یوںپوری عمارت میں اندھیرا چھا گیا اور عمارت میں پھنسے ہوئے مظلوم جو سانس لینے میں مشکل کا شکار تھے وہ باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے سے محروم ہوگئے۔ فائر بریگیڈ کی ناقص کارکردگی بھی سامنے آئی۔ فائر بریگیڈ عملے کے پاس گیس سلنڈر اور دیوار توڑنے کے آلات نہیں تھے۔
فائر بریگیڈ کے انچارج نے بتایا تھا کہ فائر بریگیڈ اسٹیشن میں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، ان کے پاس متبادل توانائی کی فراہمی کے جنریٹر موجود نہیں ہیں اور جہاں جنریٹر ہیں ان کا تیل دستیاب نہیں ہے۔بلدیہ کراچی کی اعلیٰ قیادت نے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی ڈلوانے کے لیے شہر سے 20 کلومیٹر دور صفورا ہائیڈرنٹ سے پانی حاصل کرنے کے لیے گاڑیاں روانہ کیں مگر یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن کی تعمیر کی وجہ سے یہ شاہراہ زبوں حالی کا شکار ہے، اس بناء پر صفورا گوٹھ ہائیڈرنٹ آنے جانے میں 3 سے 4گھنٹے صرف ہوئے۔ فائر بریگیڈ کے افسروں نے ناظم آباد فائراسٹیشن سے گاڑیاں منگوائیں۔
یہ اسٹیشن گل پلازہ سے 20 سے 30 کلومیٹر دور واقع ہے، لہٰذا اس جدید دور میں فائر بریگیڈ کا عملہ 48گھنٹوں تک آگ پر قابو نہ پاسکا۔ دوسری جانب اس پوری صورتحال میں سول ڈیفنس کا محکمہ لاپتہ رہا۔ سول ڈیفنس کے عملہ کی ذمے داری جدید آلات استعمال کرکے عمارت میں پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالنے کی تھی جس میں وہ ناکام رہے۔
شہری امور کے ایک معروف ماہر کا کہنا ہے کہ اگر فائر بریگیڈ کا عملہ تربیت یافتہ ہوتا اور اس کے پاس جدید آلات ہوتے تو پھر چند گھنٹوں میں آگ پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ یوں شہری امور کے ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ یہ ذمے داری محکمہ بلدیات کے ذیلی اداروں بلدیہ کراچی کے فائر بریگیڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سول ڈیفنس ڈپارٹمنٹ کے عملہ پر براہِ راست عائد ہوتی ہے۔ جب یہ سانحہ ہوا تو سندھ کے اس وقت کے گورنر، وزیر اعلیٰ، تمام وزراء، وزیر اعظم، صدرپاکستان اور تمام رہنماؤں نے گل پلازہ حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور حکومت سندھ نے متاثرہ دکانداروں کو کچھ معاوضہ دینے کا اعلان کیا مگر پیپلز پارٹی کی پوری قیادت نے سانحے کے ذمے دار افراد کے احتساب کے بارے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔
بے نظیر بھٹو اورمیاں نواز شریف کے درمیان 2005ء میں لندن میںمیثاقِ جمہوریت ہوا تھا۔ اس میثاق میں دونوں رہنماؤں نے عوام کے جاننے کے حق کو تسلیم کیا تھا اور اس شق کی بناء پر آئین کی 18ویں ترمیم میں آرٹیکل 19-A کے تحت اسے آئین کا حصہ بنایا گیا تاکہ ایک شفاف نظام وجود میں آئے۔ اگر سندھ حکومت نے گل پلازہ رپورٹ کا اجراء نہ کیا تو نہ صرف عوام کے جاننے کے حق پر پابندی کے مترادف ہوگابلکہ جمہوریت پر سے عوام کا اعتما د بھی مجروح ہوگا، اس کے ساتھ ہی اگرسانحہ کے ذمے داروںکا احتساب نہ ہوا تو اس سے زیادہ بڑا سانحہ ظہور پذیر ہوسکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل