Tuesday, July 28, 2026
 

سیاسی مخالفت میں حقائق سے انکار

 



مون سون کا موسم ہر سال ہی آتا ہے اور ملک بھر میں وفاقی ہو یا صوبائی سب حکومتوں اور متعلقہ انتظامیہ کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کی پول کھول کر رخصت ہو جاتا ہے اور مون سون کی بارشوں اور بعد میں آنے والے سیلابوں کی تباہ کاریوں کے متاثرین یہ امید رکھتے ہیں کہ موجودہ صورت حال سے سبق سیکھ کر ممکن ہے کہ آئندہ ایسے اقدامات ہو جائیں جس سے صورتحال بہتر ہوجائے ، برساتی نالوں کی صفائی بروقت کروا لی جائے اور نکاسی آب کے نقائص دور کر لیے جائیں گے مگر ہر سال مون سون ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے مگر حکومتیں اور متعلقہ انتظامیہ کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ لوگ پھر متاثر اور برباد بلکہ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ متعدد جانیں بھی ضایع ہو تی ہیں مگر ذمے دار حسب سابق اپنی جیبیں بھرنے ہی میں مصروف رہتے ہیں۔  مون سون سے قبل ہی انتظامیہ کے اجلاس شروع ہو جاتے ہیں، بلند و بانگ حکومتی دعوے بھی میڈیا کی زینت بنتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا اور صوبائی حکومتیں اپنے عوام کو پیش آنے والی مشکلات دور کرنے کی بجائے سیاست چمکانے اور مخالفانہ بیان بازی اور الزام تراشی کو ترجیح دینے لگتی ہیں اور برساتی معاملات نظرانداز کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ شروع ہو جاتی ہے اور حالیہ مون سون بارشوں کے موقع پر بھی یہی ہو رہا ہے اور سیاسی مخالفت میں حقائق کو ماننے سے انکار سیاسی اور حکومتی رہنماؤں کا بنیادی اصول بن جاتا ہے۔ حقائق کی مخالفت میں خیبر پختونخوا کی حکومت کا تو کوئی ثانی نہیں ہے تاہم سندھ حکومت کے ذمے داران بھی مخالفت برائے مخالفت کے اصول کی پیروی کررہے ہیں۔ جیسے کہ یہ مضحکہ خیز مطالبہ کہ لاہور کو وفاق کے حوالے کیا جائے، سندھ کے حکومتی ذمے دار اور پی پی رہنما اگست 2020 کی کراچی میں بارش کی تباہ کاریاں بھول گئے کہ ہفتوں میں بھی برساتی پانی کی مکمل نکاسی نہیں ہو سکی تھی۔ جانی و مالی نقصان الگ ہوا تھا۔ سیلابی پانی اندرون سندھ کو ڈبوتا ہوا کراچی کے سمندر میں چلا جاتا ہے جس سے کراچی تو متاثر نہیں ہوتا مگر اندرون سندھ میں فصلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے بارشوں اور سیلابوں کی تباہ کاریوں سے ضرور سبق سیکھ لیا ہے مگر سندھ حکومت اور کراچی کی انتظامیہ نے لگتا ہے کوئی سبق نہیں سیکھا جس کا ثبوت کراچی میں صرف نصف گھنٹے کی حالیہ بارشوں نے دے دیا ہے ۔ جس پر ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے مخالفین کو تنقید کا موقعہ مل گیا مگر میئر کراچی سمیت سندھ حکومت کے ذمے داران ایسے تنقید سے لاتعلق ہو کر پنجاب حکومت پر تنقید اور غیرحقیقی بیان بازی میں مصروف نظر آئے۔  بارشیں صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں ہوتی ہیں اور گھنٹوں جاری رہتی ہیں جس کے نتیجے میں سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، نشیبی علاقے اور انڈرپاسوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے لیکن جیسے ہی بارش بند ہوتی ہے، تمام جگہوں سے پانی نکل جاتا ہے۔ حالیہ مون سون میں لاہور میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔بارش کے دوران بھی سرکاری عملہ متحرک نظر آیا، ڈسپوزل پمز چلتے رہے، سیوریج سسٹم چوک نہیں ہوا، لہذا بارش بند ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر سڑکوں پر کھڑا پانی سیوریج کے اندر چلا گیا۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کے بقول زیادہ بارش ہوتی تو زیادہ پانی آتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور برساتی پانی کی نکاسی شروع کر دی جاتی ہے اور یہی ملک بھر میں ہوتا ہے مگر نکاسی آب کے پیشگی انتظامات کرنے پڑتے ہیں جس کے لیے اداروں کو تمام وسائل فراہم کرنا ہر صوبائی حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے اور برساتی پانی کی نکاسی نہ ہونے پر عوام کو پریشانی اور حکومتوں کو میڈیا اور عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر سیاسی حلقوں کی طرف سے یہ تنقید تعمیری نہیں بلکہ سیاسی اور بدنیتی پر مبنی اور ذاتی ہو جاتی ہے۔  تنقید اصلاحی اور تعمیری ہونی چاہیے مگر سیاسی رہنما ایسا نہیں کرتے بلکہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور سیاسی مخالفت میں حقائق ماننے سے انکار کرکے سیاسی بیانات جاری کرنے لگتے ہیں اور حقائق یکسر نظرانداز کرکے عوام کو گمراہ کرنے لگتے ہیں، یہ بیانات وہ اپنی پارٹی کے حامیوں کی فوری بنائی وڈیوز اور تصاویر دیکھ کر جاری کر دیتے ہیں جب کہ چند گھنٹوں بعد منظر مختلف ہوتا ہے۔ راقم نے اس بار خود لاہور میں قیام کے دوران برساتی صورت حال دیکھی جب کہ ایک سابق بیورو کریٹ اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے بھی تصدیق کی کہ فیروز پور روڈ جیسے اہم روڈ پر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہاں بارش ہوئی ہی نہیں۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پانی کی فوری نکاسی ہوئی، جیل روڈ، وحدت روڈ، مین بلیوارڈ گلبرگ، جوہر ٹاون، انارکلی، مال روڈ، واپڈا ٹاون، زمان پارک، ٹاؤن شپ کی گلیاں خشک نظر آئیں اور دن بھر جاری رہنے والی 25 جولائی کی بارشوں میں اہم سڑکوں اور مارکیٹوں سے برساتی پانی نکالا جاتا رہا البتہ چند رہائشی سوسائٹیوں میں ناقص کارکردگی ضرور دیکھی گئی جس کی ذمے داری پنجاب حکومت اور لاہور انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی مگر سیاسی مخالف حقائق تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ذرا پشاور، نوشہرہ ،مردان، وغیرہ پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل