Loading
کراچی سمیت سندھ میں بچوں (نوزائیدہ) کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں سرکاری اسپتالوں کے شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں بستروں کی تعداد ناکافی ہونے کی وجہ سے یومیہ سیکڑوں بچے حصول علاج سے محروم ہورہے ہیں یا پھر نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔
اسپتال انتظامیہ ایمرجنسی میں بستر نہ ہونے کا عذر پیش کرتی ہے، کراچی سمیت سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کو ایمرجنسی میں علاج کے لیے صرف 450 سے زائد بستروں کی سہولت ہے جبکہ سندھ میں ایک سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد 19 لاکھ اور5 سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد 95 لاکھ سے زائد ہے۔
ان سرکاری اسپتالوں میں بچوں کی بستروں کی تعداد میں گذشتہ کئی سالوں سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا واضح رہے کہ صوبائی محکمہ صحت نے شعبہ اطفال کی ایمرجنسی کو 10 سال قبل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت غیرسرکاری این جی او کے حوالے کیا تھا، اس وقت کراچی کے 6 سرکاری اسپتالوں اور سندھ کے 4 اضلاع کے اسپتالوں کے شعبہ اطفال کی ایمرجنسی مذکورہ این جی او کے ما تحت ایک معاہدے سے کام کررہی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ہرسال بجٹ میں اضافہ کیا جارہا لیکن بچوں کی شعبہ ایمرجنسی میں بستروں کی تعداد نہیں بڑھائی گئی۔
مذکورہ این جی او کو بچوں کی شعبہ ایمرجنسی کے لیے سالانہ 2.40 بلین روپے بجٹ فراہم کیا جاتا ہے جو بجٹ بک میں درج ہے لیکن اس کے باوجود ہر سال لاکھوں بچے علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
کراچی سمیت سندھ بھر میں بچوں کی 10 سرکاری اسپتالوں کے شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں 450 سے زائد بستر موجود ہیں۔
ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ مصنوعی دودھ کے استعمال کی وجہ سے بچوں میں بیماریوں میں ہولناک اضافہ ہو رہاہے۔
کراچی کے سرکاری اسپتالوں کے شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں بستروں کی تعداد،سول اسپتال کی شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں 30 بستر موجود ہیں جبکہ اسپتال میں یومیہ 100 سے زائد بچے رپورٹ ہوتے ہیں۔
اسی طرح این آئی سی این کی شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں 68 بسترموجود ہیں اور یہاں یومیہ 400سے زائد بچے رپورٹ ہوتے ہیں، لیاری جنرل اسپتال کی شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں 30 بستر ہیں جبکہ اسپتال میں یومیہ 100 سے زائد بچے رپورٹ ہوتے ہیں۔
سندھ گورنمنٹ نارتھ کراچی اسپتال کی شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں 10 بستر جبکہ اسپتال میں یومیہ 30 سے 40 بچے رپورٹ ہوتے ہیں۔
صدرکا رہائشی سید یوسف نے بتایا کہ میری بیٹی 7 ماہ کی ہے، سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا جس کو میں این آئی سی ایچ لے کرگیا، ایمرجنسی کے گیٹ پر تعینات گارڈ نے اندر جانے نہیں دیا اور بتایا کہ اسپتال کی ایمرجنسی میں بستر خالی نہیں ہے لہذا اس بچی کو کسی اور اسپتال لے جائیں۔
Expanded Program of Immunizaton (EPI) حکومت سندھ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں ایک سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد 19 لاکھ جبکہ 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد 95 لاکھ ہے۔
اس وقت پرائیویٹ اسپتالوں میں بچوں کے معائنے کی فیس 2 ہزار سے 5 ہزار روپے ہوگئی ہے جبکہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں رہا اور ادویات کی قیمتوں میں ہولناک اضافہ ہوگیا ہے۔
اس وقت پرائیویٹ اسپتالوں میں آئی سی یو میں داخلے کے لیے 1 سے 2 لاکھ روپے ایڈوانس ادائیگی لیتے ہیں جبکہ آئی سی یو میں داخل ہونے والے بچوں کی دیکھ بھال پر یومیہ 80ہزار سے ایک لاکھ روپے خرچہ آتا ہے۔
پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (سندھ) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر وسیم جمالوی کا کہنا تھا کہ دو سال تک ویکسینیشن کی کمی اور مصنوعی دودھ کے استعمال کی وجہ سے بچوں میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جمال رضا کے مطابق ہر ایک ہزار نوزائیدہ بچوں میں سے 40 قبل از وقت پیدائش، انفیکشن اور سانس لینے میں دشواری جیسی پیچیدگیوں کی وجہ سے جان بحق ہوجاتے ہیں جبکہ زچگی کے دوران غذائی قلت، قبل از پیدائش کی دیکھ بھال کی کمی اور غیر محفوظ ہوم ڈیلیوری، خاص طور پر دیہی سندھ میں اہم مسائل میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونٹالوجی نے سندھ بھر میں بچوں اور نوزائیدہ کے علاج کے لیے کراچی میں چلڈرن اسپتال کورنگی سمیت اندورن سندھ میں 13 اسپتال قائم کردیے ہیں جہاں مجموعی طور پر بستروں کی تعداد 879 ہے۔
مذکورہ این جی او کے ڈائریکٹر آپریشن نے بتایاکہ 16 سال قبل صوبائی محکمہ صحت نے (مذکورہ این جی او) کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بچوں کی ایمرجنسی کا شعبہ ایک معاہدے کے تحت دے دیا تھا جس میں شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں آنے والے بچوں کی فوری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں بچوں کی 10 سرکاری اسپتالوں کے شعبہ اطفال کی ایمرجنسی میں 500 زائد بستر موجود ہیں جہاں ایمرجنسی میں لائے جانے والے بچوں کو بلامعاوضہ طبی امداد فراہم کی جاری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل