Wednesday, July 29, 2026
 

اوپن اے آئی کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجنٹ بے قابو؟ دوسری کمپنی کا اکاؤنٹ بھی ہیک کرنے کا انکشاف

 



نیویارک: اوپن اے آئی  کے ایک تجرباتی خودکار مصنوعی ذہانت ایجنٹ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے نہ صرف اے آئی کمپنی ہگنگ فیس کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی بلکہ ایک دوسری ٹیکنالوجی کمپنی کے صارف کے اکاؤنٹ کو بھی ہیک کر لیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہگنگ فیس کی جانب سے جاری کردہ ایک ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے کہ تجرباتی اے آئی ایجنٹ نے ایک الگ تھلگ ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر ایک تیسرے فریق کے انفراسٹرکچر پر موجود ماحول میں رسائی حاصل کی، جہاں سے اس نے مزید کارروائیاں انجام دیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تیسرے فریق کی کمپنی نیویارک میں قائم ماڈل لیبز تھی۔ کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اکشت ببنا نے بتایا کہ اے آئی ایجنٹ نے پلیٹ فارم پر موجود ایک صارف کے کمزور کوڈ کا فائدہ اٹھایا، تاہم کمپنی کا بنیادی سسٹم یا سکیورٹی آئسولیشن متاثر نہیں ہوئی۔ اوپن اے آئی نے اس مخصوص واقعے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم کمپنی نے ایک تازہ بیان میں کہا کہ تجرباتی اے آئی ایجنٹ نے مجموعی طور پر چار مختلف سروسز پر موجود چار اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی تھی۔ کمپنی نے ان سروسز کے نام ظاہر نہیں کیے۔ اوپن اے آئی کے مطابق ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم پر ہونے والا حملہ سب سے زیادہ سنگین نوعیت کا تھا، جبکہ دیگر واقعات اس پیمانے کے نہیں تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تجرباتی اے آئی ایجنٹ نے پہلے اپنے ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی، پھر چوری شدہ لاگ اِن معلومات اور ایک نامعلوم سکیورٹی خامی استعمال کرتے ہوئے ہگنگ فیس کے سرورز میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا کہ کمپنی کو پہلے ہی شبہ تھا کہ اس حملے کے پیچھے کسی بڑی اے آئی لیبارٹری کا تجرباتی ماڈل ہو سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق انہیں یقین ہے کہ اوپن اے آئی کا مقصد بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔ اوپن اے آئی نے بتایا کہ متعلقہ اے آئی ایجنٹ کو اب غیر فعال کر دیا گیا ہے، اسے انکرپٹ کر کے مزید تحقیقی رسائی سے بھی روک دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ مستقبل میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام سائبر حملوں میں استعمال ہو سکتے ہیں، اس لیے اے آئی سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل