Wednesday, July 29, 2026
 

کارپوریٹ گورننس کی بہتری کے لیے ایس ای سی پی نے انفورسمنٹ سخت کردی

 



سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے فروری سے جون 2026 کے دوران ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر 531 کارروائیاں کرتے ہوئے 4.73 ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق فروری میں نئے کمشنرز کے آنے کے بعد سے ایس ای سی پی نے تمام لسٹڈ اور غیر لسٹڈ کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور انشورنس کمپنیوں میں ضابطوں کی پابندی کو سخت کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ مارکیٹ کا تقدس بحال اور سرمایہ کاروں کا تحفظ کیا جا سکے۔ مختلف شعبوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران لسٹڈ کمپنیوں کے قانون کی خلاف ورزیوں پر 99 کارروائیاں کی گئیں اور 91 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئےجن میں وقت پر اجلاس نہ کرنا،رپورٹنگ کے اصول توڑنا، اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خواتین اور آزاد ڈائریکٹرز کا شامل نہ ہونا شامل تھا۔ اسی طرح کیپٹل مارکیٹ میں سیکیورٹیز ایکٹ اور منی لانڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی پر 69 کارروائیاں ہوئیں اور 16 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیاجبکہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کے خلاف گاہکوں کی تصدیق نہ کرنے اور قوانین کی خلاف ورزی پر 53 کارروائیاں کی گئیں اور ساڑھے 14 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ انشورنس کے شعبے میں لوگوں کے بیمہ دعوے وقت پر کلیئر نہ کرنے اور مالی استحکام کے اصول توڑنے پر 25 کارروائیاں ہوئیں اور 21 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ پرائیویٹ اور غیر لسٹڈ کمپنیوں کے زمرے میں 285 کارروائیاں کی گئیں اور 4.7 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، جس میں غیر قانونی طور پر لوگوں سے پیسے جمع کرنے والی 3 کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں کے خلاف بھی 117 کارروائیاں کی گئیں جن میں سے 87 پر جرمانے کیے گئے اور 30 کو تنبیہ کی گئی ہے۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کہنا ہے کہ قانون پر عمل کرنا لازمی ہے، خلاف ورزیوں پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور ہم مارکیٹ میں شفافیت اور سرمایہ کاروں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل