Wednesday, July 29, 2026
 

کینیڈین رکن اسمبلی کی شرمندہ کرنے والی غلطی، اے آئی کی ہدایات اسمبلی تقریر میں پڑھ ڈالی

 



کینیڈا کے صوبے نیو برنزوک کی قانون ساز اسمبلی میں پیش آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جہاں رکنِ اسمبلی بل اولیور اپنی تقریر کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ کی دی گئی ہدایات بھی لفظ بہ لفظ پڑھ گئے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں شدید تنقید اور طنزیہ تبصروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ واقعہ 9 جون کو اسمبلی اجلاس کے دوران پیش آیا، تاہم حالیہ دنوں میں اس کی ویڈیو دوبارہ گردش میں آنے کے بعد موضوعِ بحث بن گئی۔ پروگریسو کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے بل اولیور، جو کنگز سینٹر کے رکنِ اسمبلی، سابق اسپیکر اور سابق صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں، توانائی کے شعبے سے متعلق ایک مجوزہ قانون پر اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ تقریر کے دوران اچانک انہوں نے وہ عبارت بھی پڑھ دی جو دراصل اے آئی چیٹ بوٹ کی جانب سے متن میں ترمیم کے لیے دی گئی ہدایت تھی۔ ویڈیو میں انہیں یہ الفاظ ادا کرتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یہ اس حصے کا زیادہ قدرتی اور روانی سے بھرپور ورژن ہے، جو مختصر نکات کے بجائے ایک پارلیمانی تقریر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔‘ یہی جملہ اس بات کا ثبوت بن گیا کہ تقریر میں اے آئی کی ہدایات حذف کیے بغیر ہی اسمبلی میں پیش کردی گئیں۔ Canadian politician Bill Oliver has gone viral after he appeared to accidentally read AI-generated editing instructions aloud, not once, but twice, during a speech to lawmakers in early June. pic.twitter.com/73T9bWvehW — Al Jazeera English (@AJEnglish) July 28, 2026 رپورٹس کے مطابق ابتدائی نکات کو باقاعدہ پارلیمانی تقریر کی شکل دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا گیا تھا، تاہم حتمی متن کا جائزہ نہیں لیا گیا، جس کے باعث اے آئی کی داخلی ہدایات بھی تقریر کا حصہ بن گئیں۔ اس واقعے نے اس لیے بھی زیادہ توجہ حاصل کی کیونکہ بل اولیور اسی وقت اپنی تقریر میں عوامی اعتماد، شفافیت اور احتساب جیسے موضوعات پر گفتگو کر رہے تھے، جبکہ ان کی اپنی تقریر میں ایسی بنیادی غلطی سامنے آگئی۔ If you're clueless enough to seek a position of power, you're also clueless enough to read out an "AI" prompt to the House instead of the actual speech. Canadian goofball Bill Oliver did exactly that last week.https://t.co/jwGwz0HOva#NoAI — Engineer Brains (@HHackenbecker) July 26, 2026 ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایکس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے۔ بعض نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاست دان اپنی تقاریر بھی اے آئی کے حوالے کر رہے ہیں تو شاید حکومت بھی مصنوعی ذہانت کے سپرد کر دینی چاہیے، جبکہ کئی افراد کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ اے آئی کا استعمال نہیں بلکہ بغیر پڑھے اس پر مکمل انحصار کرنا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اقتدار کے منصب پر بیٹھنے والے شخص سے کم از کم یہ توقع ضرور کی جا سکتی ہے کہ وہ تقریر سے پہلے متن کا جائزہ لے۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اے آئی کسی کمزور تیاری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ Rockit Russ: Bill Oliver proves even AI can't fix a bad politician New Brunswick MLA Bill Oliver just read his AI speechwriting prompts out loud to the entire assembly. Honestly, I respect the hustle of a man who refuses to hide the fact that he's a complete passenger in his own… pic.twitter.com/w3FkaQrHQc — botfamous (@botfamouslabs) July 28, 2026 اس واقعے نے سرکاری اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، اس کے ضابطۂ کار اور عوامی نمائندوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد مبصرین کا کہنا ہے کہ اے آئی یقیناً ایک مفید ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس سے تیار کردہ مواد کو بغیر جانچے پیش کرنا نہ صرف شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل