Loading
سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر سے زائد قرض رول اوور کر دی ہے جس سے ملک پر فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہوگیا ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق وفاقی وزیر خزانہ نے کی۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے یہ قرض پاکستان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو ادائیگیوں کے لیے فراہم کیا تھا جس کی مدت ابتدائی طور پر تین ماہ مقرر کی گئی تھی۔
اب اس قرض کو رول اوور کیے جانے سے پاکستان کو قلیل مدت میں بڑا مالی سہارا مل گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ 5 ارب ڈالر کے رول اوور کے بعد پاکستان کی زرمبادلہ کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے اور فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت سعودی عرب کے پاکستان میں مجموعی ڈپازٹس 8 ارب ڈالر ہیں۔
حکام نے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، جبکہ مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔
اس کے علاوہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی تقریباً نصف ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان جولائی کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس بھی کر چکا ہے جس کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے قرض رول اوور کیے جانے سے ملکی معیشت کو ایک اہم سہارا ملا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل