Loading
امریکا نے ایران پر آبنائے ہرمز سے آمدنی حاصل کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے مزید 10 اداروں اور 8 آئل ٹینکروں پر پابندی عائد کردی۔
غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو آمدنی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں پر 10 اداروں اور مزید 8 آئل ٹینکروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا اور ان میں 6 ادارے چین میں قائم ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران پر یہ پابندیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عائد کی گئیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے دو کمپنیوں، پرشین گلف میرین انشورنس کمپنی اور ہرمز سیف میرین سروسز اتھارٹی پر پابندیاں عائد کی ہیں اور بتایا گیا کہ یہ دونوں ادارے ایران کی اس اسکیم کا اہم حصہ تھے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے مختلف بیمہ پالیسیوں کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثے اور دیگر آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہاکہ ایرانی معیشت تیزی سے زوال کا شکار ہے اور افراط زر انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے، اس لیے حکومت رقم کے حصول کے لیے بے چین ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو عالمی تجارت کو یرغمال بنانے یا بین الاقوامی بحری گزرگاہ کو پاسداران انقلاب کی دہشت گردی، جارحیت اور جبر کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئی پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاشی ذرائع اور فوجی حملوں، دونوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ ایک ایسی جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے جو عوامی سطح پر شدید غیر مقبول ہو چکی ہے اور جس کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے2026 کے آغاز سے اب تک ایران کے شیڈو فلیٹ سے منسلک 100 سے زائد بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل