Thursday, July 30, 2026
 

نیتن یاہو نئی قانونی مشکل میں، 9 انڈونیشی شہریوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کی شکایت دائر کر دی

 



جکارتہ: غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے قافلے میں شامل نو انڈونیشی شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر الزامات پر باضابطہ شکایت دائر کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شکایت انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں جمع کرائی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف قانونی تحقیقات شروع کی جائیں۔ یہ نو افراد مئی میں غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے، جسے اسرائیلی فورسز نے راستے میں روک کر قبضے میں لے لیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 400 سے زائد بین الاقوامی کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے بعض کو کئی روز تک زیرِ حراست رکھا گیا۔ درخواست گزاروں کے وکیل کافن محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شکایت میں سمندری قزاقی، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے فوجداری قانون کے تحت بعض بین الاقوامی جرائم پر "یونیورسل جیورسڈکشن" لاگو ہوتی ہے، جس کی بنیاد پر انڈونیشی عدالتیں ملک سے باہر ہونے والے سنگین جرائم کی بھی سماعت کر سکتی ہیں۔ وکیل کے مطابق شکایت میں بنیامین نیتن یاہو کا نام بطور اسرائیلی مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر شامل کیا گیا ہے۔ درخواست میں ان رضاکاروں کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں، جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حراست کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے امدادی قافلے کے کارکنوں کے ساتھ کیے گئے سلوک پر عالمی سطح پر تنقید بھی سامنے آئی تھی، خاص طور پر اس وقت جب ایک اسرائیلی وزیر نے زیرِ حراست رضاکاروں کی ایسی ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہیں ہاتھ باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق فرانس، اٹلی اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک بھی اس واقعے کے حوالے سے عدالتی تحقیقات شروع کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل 2007 سے غزہ میں داخلے اور باہر جانے کے تمام اہم زمینی اور بحری راستوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ غزہ کی صورتحال اور انسانی امداد کی فراہمی عالمی سطح پر مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل