Loading
وزیرعالیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈیجیٹل سندھ منصوبے کے تحت 3 جدید صوبائی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا حکم دیتے ہوئے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
صوبائی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا فیصلہ این ٹی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر میجر جنرل ریٹائرڈ علی فرحان کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے آئی ٹی محمد علی شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ بلال میمن اور وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی محمد علی راشد نے شرکت کی۔
این ٹی سی کے وفد میں جنرل منیجر ساؤتھ محمد عرفان اور ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ساؤتھ عطاء الرحمٰن ملک بھی شامل تھے۔ اجلاس میں سندھ حکومت اور این ٹی سی کے درمیان ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیٹا مینجمنٹ، کلاؤڈ سروسز اور سائبر سیکیورٹی پر تعاون کا جائزہ لیا گیا اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبے میں سندھ حکومت اور این ٹی سی کے درمیان تعاون کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو این ٹی سی کے ملک بھر میں موجود انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی انفرا اسٹرکچر پر بریفنگ دی گئی اور جاری سرکاری منصوبوں و ملک بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے منصوبوں سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ این ٹی سی 1996 کے ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت قائم ملک کا واحد سرکاری ملکیتی آئی سی ٹی سروس فراہم کنندہ ہے۔ این ٹی سی وفاقی و صوبائی حکومتوں، دفاعی افواج اور سرکاری اداروں کو محفوظ ٹیلی کام اور آئی ٹی خدمات فراہم کرتا ہے۔ این ٹی سی کا سندھ میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر نیٹ ورک موجود ہے۔
حکام نے بتایا کہ آپٹیکل فائبر نیٹ ورک سیف سٹی منصوبوں اور مربوط سرکاری مواصلاتی نظام کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ این ٹی سی اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ میں ٹائر تھری معیار کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کامیابی سے چلا رہا ہے۔ این ٹی سی کے ڈیٹا سینٹرز سرکاری اداروں کو محفوظ ہوسٹنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیزاسٹر ریکوری اور ڈیٹا تحفظ کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں جدید ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ کراچی میں ڈیٹا سینٹر صوبائی ای گورننس کی ضروریات پوری اور ڈیٹا خودمختاری مضبوط کرنے میں مددگار ہوگا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ڈیجیٹل گورننس اور ٹیکنالوجی پر مبنی عوامی انتظامیہ کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ صوبائی بجٹ تقریر میں ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر اور تکنیکی جدت کو ترجیح دینے کے لیے وسائل مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔ محفوظ ڈیٹا انفرا اسٹرکچر دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ڈیٹا قومی اثاثہ ہے، اس کا تحفظ، انتظام اور دستیابی مؤثر حکمرانی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ سرکاری ڈیٹا کا تحفظ عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی کارکردگی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ سندھ کو ڈیجیٹل جدت اور ای گورننس کے شعبے میں آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ صوبائی ڈیٹا سینٹر سرکاری محکموں کے لیے محفوظ ڈیٹا اسٹوریج، کلاؤڈ سروسز اور کاروباری تسلسل کی سہولیات فراہم کرے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مرکزی ڈیٹا سینٹر سے آپریشنل خطرات کم اور مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر ہوگی۔ صوبائی ڈیٹا سینٹر منصوبہ سندھ میں ڈیجیٹل تقسیم کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کے تحت سندھ کے دیہی اور دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ رابطہ فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل رابطے سے صحت، تعلیم اور آن لائن سرکاری خدمات تک عوام کی رسائی بہتر ہوگی۔ مرکزی ڈیٹا سینٹر اور مضبوط رابطہ کاری کا نیٹ ورک آئندہ سیف سٹیز منصوبے کے لیے ٹیکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔ صوبائی ڈیٹا سینٹر سیف سٹی منصوبے میں جدید نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے حقیقی وقت میں ڈیٹا پراسیسنگ میں مدد دے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ مضبوط ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر سے عوامی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنایا جا سکے گا۔ جدید صوبائی ڈیٹا سینٹر سندھ کی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی کی بنیاد بنے گا۔ ڈیٹا سینٹر مصنوعی ذہانت، اسمارٹ گورننس، سیف سٹی نظام اور ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ کے منصوبوں میں معاون ہوگا۔ شہریوں کی ضروریات کے مطابق خدمات کی فراہمی کے لیے جدید صوبائی ڈیٹا سینٹر اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ، محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور این ٹی سی کو مشترکہ طور پر تفصیلی روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ روڈ میپ میں تکنیکی خصوصیات، منصوبے کی تکمیل کی مدت، انتظامی طریقہ کار اور مستقبل میں توسیع کی ضروریات شامل ہوں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مجوزہ ڈیٹا سینٹر کو سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا تحفظ اور ڈیزاسٹر ریکوری کے عالمی معیار کے مطابق بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی ڈیٹا سینٹر منصوبہ این ٹی سی کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت شروع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے این ٹی سی کی تکنیکی مہارت اور ملک گیر تجربے کو سراہتے ہوئے ادارے کے ساتھ صوبائی حکومت کا قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ سندھ میں محفوظ آئی سی ٹی انفرا اسٹرکچر اور ڈیجیٹل رابطے کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل