Loading
خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے کیوریوسٹی روور نے مریخ پر ایک ایسی حیران کن دریافت کی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔ روور نے گزشتہ ماہ مریخ کی وادی ’ویلی گرانڈے‘ میں شہد کے چھتے سے مشابہ پولی گون (تین یا زیادہ کونوں والی بند شکلیں) نمونوں کا ایک وسیع سلسلہ دریافت کیا۔
ناسا کے مطابق اگرچہ کیوریوسٹی مشن اس سے قبل بھی ایسے نمونے دیکھ چکا ہے۔ تاہم، پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں یہ ساختیں ایک ہی مقام پر دیکھی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ پراسرار نمونے کیسے وجود میں آئے۔ البتہ، ان کا خیال ہے کہ روور کی جانب سے جمع کیے گئے ڈیٹا سے اس راز سے پردہ اٹھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
کیوریوسٹی مشن کے پروجیکٹ سائنس دان اشون واساوادا نے کہا کہ روور نے مریخ پر کئی دلکش مناظر ریکارڈ کیے ہیں، لیکن پولی گون نمونوں کے اس وسیع منظر نے سائنس دانوں کو بے حد متاثر کیا۔
ان کے مطابق ان نمونوں کی ساخت اور کیمیائی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی تشکیل کی وجہ معلوم کی جا سکے۔
ناسا کے مطابق ان نمونوں کا قطر تقریباً 1.3 سے 3 انچ کے درمیان ہے اور یہ قریبی پہاڑی (جسے ’مِیرا فلوریز‘ کا نام دیا گیا ہے) کے اطراف تک پھیلے ہوئے ہیں۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ دریافت مریخ کی قدیم جغرافیائی تاریخ اور وہاں کے ماضی کے ماحول کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل