Loading
خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس کی خزینہ چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقاتی رپورٹ میں حملے کی منصوبہ بندی، دہشت گردوں کی حکمت عملی سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے جدید تھرمل ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس سے انہیں اہلکاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں مدد ملی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حملے میں تقریباً 100 دہشت گرد شریک تھے، جن کی قیادت ایک مطلوب دہشت گرد کمانڈر کر رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور جدید اسلحے سے لیس اور اُن کے پاس اسنائپر رائفلیں، کواڈ کاپٹرز بھی موجود تھے، جنہیں حملے کے دوران نگرانی اور کارروائی میں استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے نہ صرف چیک پوسٹ پر حملہ کیا بلکہ بیک اپ کے لیے آنے والی پولیس ٹیم کو بھی پہلے سے تیار منصوبے کے تحت تین مختلف اطراف سے نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے دو سے تین کلومیٹر کے فاصلے تک مختلف مقامات پر گھات لگا رکھی تھی تاکہ کمک پہنچنے والے اہلکاروں کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا سکے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود پولیس اہلکاروں نے طویل وقت تک دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور شدید مزاحمت کی، جس کے باعث حملہ آوروں کو فوری طور پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی نہ مل سکی۔
تاہم شدید حملے کے نتیجے میں 10 پولیس اہلکار شہید جبکہ 32 دیگر زخمی ہوئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی انتظامات، انٹیلی جنس معلومات، فوری ردعمل اور آئندہ ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔
حکام نے رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل