Loading
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج نے اب تک 44 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا ہے جبکہ دو بحری جہازوں کو ناکارہ بنانے اور دو دیگر پر سوار ہونے کی کارروائی بھی کی گئی ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر اہم بحری راستوں میں جاری امریکی بحری آپریشن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کے خلاف نافذ بحری پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
بیان کے مطابق امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی بحری راستوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور ان جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو اس علاقے سے گزر رہے ہیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اب تک 44 تجارتی جہازوں کو متبادل راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ مزید دو جہازوں پر امریکی اہلکاروں نے چڑھ کر کارروائی کی۔
امریکی حکام نے ان جہازوں کی شناخت یا ان کے پرچم، مالکان اور سامان کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر بحری نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
U.S. forces continue to strictly enforce the U.S. blockade against Iran. As of Aug. 3, CENTCOM has redirected 44 commercial vessels, disabled 2, and boarded 2. pic.twitter.com/dTu90UVAcH
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 3, 2026
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل