Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ منسوخ کرنے اور امن مذاکرات دوبارہ شروع کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ کے امن مذاکرات کے اعلان کے باوجود تاحال آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہے لیکن عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔
پیر کے روز عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4.2 فیصد کمی کے بعد 84 ڈالر فی بیرل تک گر گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 5 فیصد کمی کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
تیل و گیس کی بحری آمد و رفت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے اس امید پر تیل فروخت کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آنے سے مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ابھی تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ ایرانی وزارت خارجہ کے بقول عمان کے ساتھ ایک محفوظ عارضی بحری راہداری قائم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس محفوظ بحری راہداری سے جہاز محدود پیمانے پر گزر سکیں گے جس کے اثرات عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قیمتوں پر بھی پڑیں گے اور قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل خام تیل آبنائے ہرمز سے عمان کے ساحل کے قریب جنوبی راستے کے ذریعے گزر رہا ہے جبکہ جنگ سے قبل یہی مقدار اوسطاً 2 کروڑ بیرل یومیہ تھی۔
ادھر سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کا ایک حصہ مغرب کی جانب بحیرۂ احمر کے راستے منتقل کر دیا۔ یہ تیل باب المندب کی آبنائے سے گزرتا ہے تاہم یہ بحری راستہ بھی یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملوں کی زد میں رہا ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
واضح رہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی جنگ سے قبل کی قیمتیں بحال ہوسکتی ہیں۔ تاہم باب المندب اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بدستور عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل