Monday, August 03, 2026
 

امارات اور سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں شدید گرمی کی لہر

 



متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں شدید گرمی کی نئی لہر کے باعث کئی علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی تجاوز کر گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قومی مرکز برائے موسمیات نے بتایا کہ ملک کے بیشتر اندرونی اور صحرائی علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ابوظبی کے علاقے الشوامخ میں درجہ حرارت پہلے ہی 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ دبئی، العین اور دیگر اندرونی علاقوں میں بھی شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ فجیرہ، مشرقی اور جنوبی امارات کے بعض علاقوں میں جمعرات تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان بھی موجود ہے۔ اس دوران تیز ہواؤں، گرد آلود موسم اور بعض مقامات پر حدِ نگاہ متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ادھر سعودی عرب میں بھی گرمی کی شدت میں اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے خصوصاً مشرقی صوبے، ریاض، دمام، الاحساء، حفر الباطن اور صحرائی علاقوں میں درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ سکتا ہے۔ سعودی موسمیاتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ دن کے اوقات میں شدید گرمی، گرم ہواؤں اور دھوپ کی شدت کے باعث شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، زیادہ پانی استعمال کریں اور براہِ راست دھوپ میں طویل وقت گزارنے سے بچیں۔ ماہرین کے مطابق گرمی کی نئی لہر صرف امارات اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کویت، عراق، قطر، بحرین اور خلیج کے دیگر صحرائی علاقے بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں آئیں گے۔ اسی طرح کویت میں آئندہ دنوں کے دوران درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ عراق کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں بھی شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مشرق وسطیٰ میں شدید گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیہ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کے باعث خلیجی ممالک میں صحت عامہ، بجلی کی طلب اور روزمرہ زندگی پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل