Loading
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا یہ اس کا آخری موقع ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر انھوں نے ایران کے خلاف مجوزہ فوجی حملے ایک بار پھر مؤخر کیے تاکہ سفارت کاری کو ایک آخری موقع دیا جا سکے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے مجھ سے رابطہ کیا اور سب یہ چاہتے تھے کہ ایران کو ایک آخری موقع دیا جائے اور یہی وہ آخری موقع ہے جو میں ایران کو آج دے رہا ہوں۔
جب صحافیوں نے پوچھا کہ اس بار کیا مختلف ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی حملے روک چکے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں انہیں مکمل تباہی سے پہلے آخری موقع دینا چاہتا ہوں۔
تاہم امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے اور معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت آبنائے ہرمز مکمل طور پر منگل تک بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ دوسرا مرحلہ ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ہوگا تاہم یہ عمل فوری نہیں ہوگا البتہ اس میں کچھ وقت لگے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، دونوں نکات جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا حصہ تھے۔
واضح رہے کہ آج ہی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہوں گے تاہم ایران کا موقف ہے کہ مذاکرات امریکا سے نہیں بلکہ صرف عمان سے ہو رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل