Monday, August 03, 2026
 

بہادرآباد مرکز تصادم ملوث ایم کیو ایم کے 200 کارکنان کی فہرستیں تیار، دونوں گروپوں میں تناؤ برقرار

 



ایم کیوایم پاکستان کے دونوں گروپوں میں تناؤ برقرار ہے، ایک گروپ عارضی مرکز پر موجود رہا جبکہ دوسرے گروپ کے رہنما غیر حاضر رہے جبکہ ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے پر 200 کارکنان کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ دوسری جانب پولیس ایم کیوایم دفتر کو سیل کرنے پہنچے جس پرایم کیوایم رہنماوں نے بات چیت کی تو پولیس وہاں سے روانہ ہوگئی جبکہ اتوارکو تصادم کے بعد شہر کے مختلف علاقوں سے کارکنان کو حراست میں لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق اتوارکوایم کیوایم کے خالد مقبول صدیقی گروپ اورمصطفی کمال گروپ کے درمیان تصادم کے بعد پیرایم کیوایم کے مرکز صورتحال پرامن رہی لیکن دونوں گروپوں میں تناؤ دکھائی دیا۔ پیرکو معمول کے مطابق ایم کیوایم بہادر آباد کےعارضی مرکز کو کھولا گیا جہاں ایم کیوایم رہنما موجود تھے تاہم شام چاربجے نیو ٹاؤن پولیس ایم کیوایم کے مرکز پہنچ گئی۔ ایس ایچ او غلام حسین پولیس کی نفری کے ساتھ ایم کیوایم کے دفتر میں داخل ہوئے اور رابطہ کمیٹی دفتر کو پرتالے ڈالنے کی کوشش کی تاہم وہاں موجود کارکنان نے پولیس کی تحریری حکم نامہ طلب کیا اسی دوران ایم کیوایم کے رہنما شبیر قائم اور رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے پولیس حکام سے سیل لگانے یا تالے ڈالنے کا حکم نامہ مانگا۔ اس پرایس ایچ او کے پاس کو تحریری حکم نامہ نہیں تھا جس پر پولیس افسر نے جواب دیا کہ افسران کی ہدایت ہے دفتر پر تالہ ڈالا جائے، تاہم کارکنان کے پہنچنے پر پولیس وہاں سے روانہ ہو گئی۔ اسی دوران ایم کیوایم کے سینئررہنما سید مصطفی کمال، انیس قائم خانی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پہنچے۔ تمام اسمبلی اراکین کا تعلق مصطفی کمال گروپ سے تھا مصطفی کمال گروپ کے کارکنان بھی ایم کیوایم کے مرکز پہنچ گئے لیکن خالد مقبول صدیقی گروپ کے رہنماؤں اور اراکین اسمبلی مرکزموجود نہیں تھے۔ دو گھنٹے تک  مصطفی کمال اور اُن کے ساتھی ایم کیوایم کے مرکزپرموجود رہے جبکہ وہاں موجود شبیر قائمی جن تعلق خالد مقبول صدیقی سے تعلق ہے وہ بھی  مرکز سے روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی  اور فاروق ستار آج نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال بہتر ہوجائیں گی کوشش کی جارہی ہے جبکہ مصطفی کمال نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جشن آزادی کا مہینہ شروع ہوگیا سب کو جشن آزادی مبارک ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا اور ایسا کچھ نہیں کہ جو ٹھیک نہ ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کے دوںوں گروپوں میں ابھی تناو ہے کوشش کی جارہی ہے تحفظات دور کر کے معاملات کو بہتر کیا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو ایم کیوایم کے مرکز پر ہونے والے تصادم میں مبینہ طورپر ملوث افراد کی شہر کے مختلف مقامات سے حراست میں لئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے پر 200 سے زائد کارکنوں کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل