Loading
ایک جانب آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے کا پُرامن اور منظم انداز میں انعقاد اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کا راستہ عوامی رائے، آئینی تسلسل اور ریاستی اداروں کی ذمے دارانہ کارکردگی سے ہو کر گزرتا ہے، تو دوسری جانب خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتی ہیں کہ پاکستان کو آج بھی ایسے خطرات کا سامنا ہے جو صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے داخلی استحکام، قومی یکجہتی اور معاشی مستقبل کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
ایک ہی وقت میں جمہوری عمل کا کامیاب انعقاد اور خونریز دہشت گردی کے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست کو بیک وقت دو محاذوں پر اپنی ذمے داریاں نبھانا ہوں گی۔ ایک طرف جمہوری اداروں کو مستحکم کرنا اور دوسری طرف امن و امان کے قیام کو یقینی بنانا۔ کسی بھی ملک کی ترقی اس وقت تک پائیدار نہیں ہوسکتی جب تک شہری خود کو محفوظ محسوس نہ کریں اور ریاست کی عمل داری ہر علاقے میں یکساں طور پر قائم نہ ہو۔
سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے پر ہونے والا خودکش حملہ نہ صرف ایک المناک سانحہ ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ دہشت گرد عناصر اب بھی ریاستی اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خودکش حملہ آور پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر اسے مرکزی گیٹ پر روک لیا۔ حملہ آور نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری اور پولیس اہلکار شہید و زخمی ہوئے، اگر وہ کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا تو نقصان کہیں زیادہ ہولناک ہوسکتا تھا، کیونکہ اس احاطے میں پولیس لائن، سہولت مرکز اور دیگر سرکاری دفاتر بھی قائم ہیں۔
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ پاکستان کی پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دفاعی صف کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ قومی سلامتی کے محافظ ہر قیمت پر اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں۔ ان کی قربانیاں صرف سرکاری اعزازات کی مستحق نہیں بلکہ قومی حافظے کا مستقل حصہ ہونی چاہیے۔
دہشت گردی کی موجودہ لہر کو محض چند منتشر واقعات قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف انٹیلی جنس رپورٹس، گرفتار دہشت گردوں کے اعترافی بیانات اور متعدد شواہد یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سرگرم شدت پسند گروہوں کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے۔
بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے مختلف پراکسی تنظیموں کو مالی، تکنیکی اور ابلاغی معاونت فراہم کرتی ہے۔ بلوچستان میں سرگرم مسلح علیحدگی پسند گروہوں کی کارروائیاں اور خیبرپختون خوا میں دہشت گرد تنظیموں کی منظم سرگرمیاں اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہیں جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا، ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانا اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔ دشمن یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ روایتی جنگ کے میدان میں پاکستان کو نقصان پہنچانا آسان نہیں، اس لیے پراکسی جنگ اس کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
دہشت گردی صرف انسانی جانوں کو ہی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔ سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوتا ہے، سیاحت کو دھچکا پہنچتا ہے، کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوجاتی ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کم پڑ جاتی ہے۔ خیبرپختون خوا اور بلوچستان جیسے صوبے، جہاں قدرتی وسائل، سیاحت اور جغرافیائی اہمیت کے بے شمار امکانات موجود ہیں، مسلسل بدامنی کی وجہ سے اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فایدہ نہیں اٹھا پا رہے۔ یہی وہ مقصد ہے جسے پاکستان کے دشمن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں افغانستان کی صورتحال بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغان عوام کی جس فراخ دلی سے میزبانی کی، شاید ہی اس کی کوئی دوسری مثال ملتی ہو۔
لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دینا، مشکل حالات میں انسانی امداد فراہم کرنا، سفارتی سطح پر ان کی حمایت کرنا اور خطے میں امن کے لیے مسلسل کردار ادا کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہا ہے۔
توقع یہ تھی کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا، مگر زمینی حقائق مختلف سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پاکستان بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکا ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم بعض دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں، اگر کوئی حکومت اپنی سرزمین کو ایسے عناصر سے پاک رکھنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔
برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے افغانستان کی موجودہ حکومت پر یہ اخلاقی، سیاسی اور بین الاقوامی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کے ساتھ حسن ہمسائیگی کا تقاضا بھی یہی ہے اور بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول بھی۔
دہشت گردی کے خلاف گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے جو قربانیاں دی ہیں، دنیا کی تاریخ میں ان کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ہزاروں شہری، فوجی، پولیس اہلکار، اساتذہ، علما، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
ان بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن کی ایک قابلِ ذکر فضا قائم ہوئی تھی اور یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں رونما ہونے والے واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیموں نے اپنی حکمت عملی، طریقہ کار اور نیٹ ورک کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کو بھی ماضی کے تجربات کی روشنی میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے انٹیلی جنس، سائبر نگرانی، مالیاتی نظام، سرحدی انتظام اور قانونی ڈھانچے کو ایک دوسرے سے مربوط انداز میں فعال بنانا بھی ضروری ہے۔
دہشت گردی کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جس پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ اسی سے اس ناسور کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ کوئی بھی دہشت گرد اپنے ہدف تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اسے مقامی سطح پر کسی نہ کسی درجے کی معاونت حاصل نہ ہو۔
رہائش، نقل و حرکت، اسلحے کی ترسیل، مالی وسائل، محفوظ راستوں کی نشاندہی اور حساس معلومات کی فراہمی جیسے عوامل سہولت کاروں کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ اس لیے اگر صرف حملہ آوروں کو ختم کردیا جائے اور ان کے معاون نیٹ ورک برقرار رہیں تو دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریاست کو بلاامتیاز ان تمام عناصر کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی جو کسی بھی انداز میں دہشت گردوں کے معاون، سہولت کار یا ہمدرد بن کر قانون شکنی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید تفتیشی صلاحیتوں، ڈیجیٹل نگرانی اور موثر قانونی معاونت سے آراستہ کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے پورے ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑا جاسکے۔
اسی تناظر میں قومی ایکشن پلان پر ازسرنو سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد انتہاپسند سوچ کی بیخ کنی، نفرت انگیز بیانیے کی روک تھام، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر موثر پابندی، مدارس اور تعلیمی اداروں میں اصلاحات، غیر قانونی مالی ذرائع کی بندش اور ریاستی اداروں کے درمیان موثر رابطہ قائم کرنا اس کا حصہ تھا۔
صوبائی حکومتیں بھی دہشت گردی کے خلاف موثر اور قابل تحسین کردار نہیں کر رہیں،صوبائی حکومتوں کو بھی اس سلسلے میں متحرک ہونا پڑے گا۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ جہاں اس منصوبے پر مستقل مزاجی سے عمل ہوا، وہاں مثبت نتائج سامنے آئے، جب کہ جن شعبوں میں سستی یا عدم توجہی رہی، وہاں دہشت گرد عناصر نے دوبارہ اپنے قدم جمانے کی کوشش کی۔
اس لیے ضروری ہے کہ قومی ایکشن پلان کو محض ایک سرکاری دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ قومی سلامتی کی مسلسل حکمت عملی کے طور پر نافذ کیا جائے۔ اس تمام صورتحال میں سیاسی قیادت پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
جب قومی سلامتی کو درپیش خطرات شدت اختیار کر جائیں تو سیاسی اختلافات کو قومی مفاد پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو ایسا فعال فورم بننا ہوگا جہاں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاقِ رائے پیدا ہو، قانون سازی کو مؤثر بنایا جائے اور متعلقہ اداروں کو درکار وسائل فراہم کیے جائیں۔ قومی سلامتی کے معاملات کو روزمرہ کی سیاسی کشمکش کا حصہ بنانا کسی طور دانشمندی نہیں، کیونکہ دہشت گردی کسی ایک جماعت، حکومت یا صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور پوری قوم کا مشترکہ چیلنج ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل