Monday, August 03, 2026
 

تعلیم بھی ہندو مسلم ہو سکتی ہے

 



بھارتی آئین کے آرٹیکل تیس کے مطابق اقلیتیں تعلیمی ادارے قائم کر سکتی ہیں اور ان اداروں میں پچاس فیصد کوٹہ اپنی کمیونٹی کے طلبا و طالبات کے لیے مختص کر سکتی ہیں۔ مگر اس برس جنوری میں ایسا واقعہ ہوا جس نے میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔مقبوضہ جموں کے شہر ریسی میں شری ماتا وشنو دیوی ٹرسٹ کے قائم کردہ میڈیکل کالج خود ہندو مظاہرین نے بند کروادیا۔ وجہ یہ تھی کہ پہلے بیج میں پچاس طلبا و طالبات نیشنل انٹرینس ایگزامینیشن ٹیسٹ میں میرٹ کی بنیاد پر کامیاب ہو کر اس میڈیکل کالج میں داخلے کے حقدار قرار پائے۔ان پچاس طلبا میں ایک سکھ ، سات ہندو اور بیالیس مسلمان تھے۔ مقامی ہندو انتہاپسند تنظیموں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ ایک ہندو ٹرسٹ کے قائم کردہ ادارے میں اتنی بڑی تعداد میں غیر ہندو طلبا کیسے داخل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ نیشنل میڈیکل کمیشن جس نے اس کالج کے قیام کی اجازت دی تھی اسی کمیشن نے یہ کہہ کر اجازت واپس لے لی کہ اس کالج کی فیکلٹی کے اکثر اساتذہ کمیشن کے قائم کردہ معیار پر پورا نہیں اترتے لہذا اجازت نامہ منسوخ کیا جاتا ہے۔ جن طلبا کو یہاں داخلہ ملا تھا انھیں دیگر میڈیکل کالجوں میں داخلہ دیا جائے گا۔تنگ نظری اس حد تک بھی جا سکتی ہے ؟ کم ازکم آج کے بھارت میں یہ کوئی حیرت ناک واقعہ نہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہلا اعلی اقلیتی تعلیمی ادارہ تھا جو لگ بھگ ایک صدی سے بطور جامعہ متحرک ہے۔ اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ علی گڑھ کا اقلیتی سٹیٹس ختم کر کے دیگر یونیورسٹیوں کی طرح ایک عام پبلک یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے۔اس بابت ایک درخواست بھی سپریم کورٹ میں کچھ برس سے پڑی ہوئی ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی اترپردیش میں ہے۔  اترپردیش پر انتہاپسند یوگی ادتیا ناتھ کی حکومت ہے۔ان کی جانب سے وقتافوقتاً یہ طعنہ بھی دیا جاتا ہے کہ ملک کے بٹوارے میں علی گڑھ کے طلبا نے اہم کردار ادا کیا۔ البتہ ایک اور مسلم یونیورسٹی پر یوگی ادتیاناتھ حکومت نے ہاتھ صاف کرنے کا راستہ نکال لیا ہے۔یعنی رام پور میں ڈھائی سو ایکڑ پر قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی۔حالانکہ مولانا محمد علی جوہر برطانوی سامراج کے خلاف متحدہ ہندوستان میں چلنے والی تحریکِ آزادی کے ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں مگر آر ایس ایس اور بی جے پی نے گاندھی جی کو نہ بخشا تو محمد علی جوہر کیا چیز ہیں۔ بلدیہ رام پور کی جانب سے فردِ جرم عائد کی گئی کہ جوہر یونیورسٹی کی چالیس میں سے اڑتیس عمارتیں قبضے کی زمین پر تعمیر کی گئی ہیں۔ تحریری دھمکی دی گئی کہ پانچ اگست تک ان عمارات کو منہدم نہ کیا گیا تو سرکار ازخود بلڈوز کر دے گی اور انہدام کا خرچہ یونیورسٹی سے وصول کرے گی۔ پندرہ جولائی کو یہ آرڈر جاری ہونے کے بعد یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبا نے دھرنا دے دیا۔کئی طلبا و طالبات نے بتایا کہ پولیس انھیں ایجی ٹیشن سے روکنے کے لیے گھروں کے چکر لگا کر والدین پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ فی الحال ریاستی حکومت نے بلدیہ رام پور کے حکم پر عمل درآمد روک دیا ہے تاہم یہ اسٹے آرڈر کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ اس حکم کو عدالت میں چیلنج کرنے کا سوچ رہی ہے۔ اگرچہ یوپی میں ہزاروں غیر قانونی تعمیرات کو جرمانہ عائد کر کے قانونی کیا گیا ہے۔مگر اس رعایت کا اطلاق مسلم پراپرٹی پر خال خال ہی ہوتا ہے۔ یوپی کی چوبیس کروڑ آبادی میں تین کروڑ اسی لاکھ مسلمان ہیں۔ ضلع رام پور کی آدھی آبادی مسلم ہے۔ یوپی کے پچھتر اضلاع میں رام پور شرحِ خواندگی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہے۔  محمد علی جوہر یونیورسٹی ریاست کے ایک ممتاز سیاستداں اعظم خان نے ایک ٹرسٹ قائم کر کے دو ہزار چھ میں بنائی۔مقصد یہ تھا کہ جن مسلمان طلبا بالخصوص لڑکیوں کو ان کے والدین غربت ، تعصب یا دیگر سماجی رکاوٹوں کے سبب اعلی تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہوئے گھبراتے ہیں ان کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ کھولا جائے۔ اس وقت یونیورسٹی میں تین ہزار طلبا و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ نصف لڑکیوں میں سے ایک تہائی ہندو ہیں۔طالبات کا کہنا ہے کہ انھیں والدین نے بہت مشکل سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔اگر یونیورسٹی ختم ہو گئی تو کہیں اور جا کر تعلیم جاری رکھنے کی اجازت ملنا بہت مشکل ہے۔ مسئلہ قانونی سے زیادہ سیاسی ہے۔ یونیورسٹی کے تاحیات چانسلر اعظم خان انیس سو اسی کے بعد سے دس ریاستی اور ایک لوک سبھا انتِخاب جیت چکے ہیں اور راجیہ سبھا میں بھی رہ چکے ہیں۔کئی بار ریاستی وزیر بن چکے ہیں۔ ان کا شمار بی جے پی کی مخالف سماج وادی پارٹی کے بنیادی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ یوگی حکومت نے اعظم خان کے خلاف زمین پر قبضے ، جعلسازی اور نفرتی سیاست کے الزام میں سو سے زائد پرچے کاٹ رکھے ہیں۔ وہ دو برس جیل میں رہ کر دو ہزار بائیس میں ضمانت پر باہر آئے مگر دو ماہ قبل انھیں دو ہزار انیس میں ایک ’’ نفرت انگیز ‘‘ انتخابی تقریر کرنے اور جعلی انکم ٹیکس دستاویزات بنوانے کے الزام میں دو برس کے لیے پھر جیل بھیج دیا گیا۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی اپنی مختصر تاریخ بھی بی جے پی والوں کو تاؤ دلانے کے لیے کافی ہے۔اول یہ اعظم خان جیسے منہ پھٹ سیاستداں نے قائم کی ، دوم اس کا سنگِ بنیاد بی جے پی کے سیاسی حریف ملائم سنگھ یادو نے رکھا ( دو ہزار بائیس میں ان کا انتقال ہو چکا ہے ) ، سوم یہ کہ اس یونیورسٹی کا افتتاح ملائم سنگھ کے بیٹے اور سابق وزیرِ اعلی اکھلیش یادو نے کیا اور چہارم یہ اس اقلیت کے لیے قائم کی گئی جو آر ایس ایس کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ بھی تاثر ہے کہ موجودہ حکومت کوئی ایسا ادارہ نہیں چاہتی جس میں اکثریتی و اقلیتی سماج میں میل جول بڑھے۔کیونکہ بی جے پی کی طاقت ہی نفرتی سیاست سے قوت کشید کرتی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر زہیر الدین کی دلیل ہے کہ جس زمین کو بلدیہ رام پور آج غیر قانونی بتا رہی ہے وہ علاقہ ہی ستمبر دو ہزار چوبیس تک بلدیاتی حدود سے باہر تھا۔ جب بلدیہ کا وجود ہی نہیں تھا تو پھر اجازت کے کیا معنی۔یونیورسٹی میں اس وقت جو کورسز پڑھائے جا رہے ہیں ان کی اجازت متعلقہ سرکاری اداروں نے ہی دی ہے۔اگر یونیورسٹی تمام قانونی شرائط پورا نہ کرتی تو اجازت کیونکر ملتی۔ مگر آج کے بھارت میں دلیل کی جگہ دھونس سکہ رائج الوقت ہے۔ نئی نسل کے ’’ کاکروچ ‘‘ دس برس سے جاری دھونس دھاندلی کے نظام کی راہ میں پہلا بند باندھنے میں تو کامیاب ہو چکے ہیں۔مگر صرف ایک بند نفرتی سیلاب روکنے کے لیے کافی نہیں۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل