Loading
واشنگٹن ڈی سی میں واقع سفارت خانۂ پاکستان کے زیر اہتمام یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال، بین الاقوامی قانون اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ویبینار کا آغاز صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ کے خصوصی پیغامات سے ہوا جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور پاکستان کی سیاسی، سفارتی و اخلاقی وابستگی کا اعادہ کیا گیا۔
تقریب سے پاکستان کے سابق مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر منیر اکرم، امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ، ڈاکٹر فرحان مجاہد، ڈاکٹر قمر چیمہ اور علی عنار سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات مقبوضہ کشمیر کی متنازع آئینی و قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رہے گی، جبکہ مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی جبر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا۔
ویبینار کے مقررین نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر فعال اور مؤثر کردار ادا کرے۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل