Loading
ایوان صدر کے ذرائع نے ہائی کورٹس میں ججز تعیناتی کے معاملہ میں آئینی کشمکش پر کہا ہے کہ صدر کا عہدہ آئینی عہدہ ہے، کوئی پوسٹ آفس نہیں، آئین کے آرٹیکل(2) کے تحت صدر اپنی صوابدید میں کسی بھی سمری کا مکمل جائزہ لے سکتا ہے اور منظور،واپس یا مسترد کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ قانون سازی کے حوالے سے صدر کے اختیارات دوبارہ سمری آنے کی صورت میں محدود ہو جاتے ھییں لیکن باقی ہر طرح کی ایڈوائس اور سمری کی صورت میں صدر اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کر سکتا ہے۔
آئین کے مطابق صدر کے فیصلوں کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، ایوان صدر کے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کسی عدالتی کارروائی کی صورت میں موقف یہی ہے کہ نامزد ججز کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کو مکمل معلومات نہیں دی گئیں اور اندھیرے میں رکھ کر منظوری لی گئی۔
اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ فوجداری مقدمات کے اندراج کی بابت معلومات کو خفیہ رکھا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز کے مطابق پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ ساتھ جنس،مذہب اور علاقائیت کے اصول بھی مدنظر رکھنے ہوتے ہیں لیکن راولپنڈی ڈویژن کو مکمل نظر انداز کیا گیا اور جوڈیشل کمیشن کو غلط معلومات فراہم کی گئیں، جس امیدوار کو راولپنڈی کا بتایا جارہا ہے وہ جہلم کی رھائشی اور اسلام آباد بار کی ممبر اور سیکرٹری بھی رہی ہیں۔
اسی طرح جن امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا ان کی پیشہ وارانہ مہارت بہت سے نامزد کردہ امیدواروں سے بہتر ہیں، اگر معاملہ عدالت میں آیا تو یہ درخواست کی جائے گی کہ تمام امیدواروں کے بارے میں تفصیلات پبلک کی جائیں اور سب کا موازنہ کیا جائے اور پھر دوبارہ جوڈیشل کمیشن کو معاملہ بھیجا جائے تاہم ذرائع کے مطابق ایوان صدر عدالتی استثنیٰ کے حوالے سے موقف پر زیادہ زور دے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل